Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
420 - 784
پہلی قسم:	بندے کا اپنےافعال وعادات میں غوروفکر کرنا
	یہ فکر عِلْمِ مُعامَلہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کتاب کا مقصود بھی یہی ہے۔ جہاں تک تعلق ہے دوسری قسم(یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات وصفات اور افعال میں غوروفکرکرنے)کا تو وہ عِلْمِ مُکاشَفہ سے تعلق رکھتی ہے۔
	ہرشے خواہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں پسندیدہ ہے یا نہیں ظاہر وباطن کی طرف تقسیم ہوتی ہے۔ظاہر کی طرف جیسے نیکیاں اور گناہ اورباطن کی طرف جیسے مُنْجِیات(یعنی نجات دینے والی)یا پھرمُہْلِکات(یعنی ہلاک کرنے والی) ان کا تعلق دل سے ہے۔ہم ان کی تفصیل مُہْلِکات ومُنْجِیات(یعنی تیسری جلد اور اس جلد) میں بیان کر چکے ہیں۔
بندے کے افعال چار قسم کے ہیں:
	اطاعت ونافرمانی  کا تعلق سات اعضاء(دونوں ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان اور زبان) سے ہوتا ہے یا پھر پورے بدن سے  مثلا ًمیدانِ جنگ سے بھاگ جانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور حرام جگہ ٹھہرنا۔ان تمام ناپسندیدہ باتوں سے متعلق تین اُمور میں غور وفکر کرنا  ضروری ہے: (۱)…اس بات میں غور وفکر کرنا کہ یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بھی ناپسندہے یا نہیں کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا ناپسند  ہونا انتہائی غور وفکر کے بعد ہی سمجھ آتا ہے۔ (۲)…اس بات میںغور وفکر کرنا کہ اگر یہ کام ناپسند  ہے تو اس سے بچنے کی  صورت کیا ہوگی؟ اور (۳)…اس بات میں غور وفکر کرنا کہ ناپسندیدہ کام فی الحال پایا جارہاہے یا مستقبل میں یا ماضی میں اس سے سرزد ہوچکا ہے۔اگر فی الحال پایا جارہا ہے تو اسے چھوڑ دے، مستقبل میں اس میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے تو اس سے بچے، ماضی میں اس ناپسندیدہ  وَصْف سے متصف تھا تو اب اس کی تلافی کی ضرورت ہو گی۔ ایسے ہی پسندیدہ اُمور بھی ان ہی اقسام کی طرف تقسیم ہوں گے۔ ان قسموں کو جمع کیا جائے تو غوروفکر کے مقامات کی سو سے زائد قسمیں ہو جائیں گی اور بندہ غوروفکر کا محتاج ہوتا ہے چاہےتو ان سب میں غوروفکر کرے یا پھر اکثر میں۔ ان میں سے ہر قسم کی وضاحت بہت طویل ہوجائے گی لہٰذا ہم انہیں چار قسموں میں تقسیم کرتے ہیں:اطاعت، نافرمانی، ہلاک کرنے والی اور نجات دلانےوالی صفات۔
	ہم ان میں سے ہر قسم کی مثال پیش کریں گے تاکہ راہِ طریقت پر چلنے والا  تمام قسموں کو ان پر قیاس کرے اور اس کے لئےغوروفکر  فکر کا دروازہ کھل جائے اور اس  کی راہ کشادہ ہو جائے۔