ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے اولیا ہو، مجھے تمہارے ساتھ قیام کا حکم دیا گیاہے۔‘‘
بُراغلام اور بُرا مزدور:
حضرتِ سیِّدُناابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:بے شک مجھے اس سے حیاآتی ہے کہ ثواب کے حُصول اور عذاب کے خوف کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کروں اور بُرے غلام کی طرح ہوجاؤں کہ جسے ڈر نہ ہو تو کام نہ کرےاور بُرے اَجیر(مزدور) کی طرح ہوجاؤں کہ جسے مزدوری نہ دی جائے تو کام نہ کرے۔(1)
حدیْثِ پاک میں ہے:تم میں سے کوئی بُرے اجیر کی طرح نہ ہو کہ اگر اسے مزدوری نہ دی جائے تو کام نہ کرے اور نہ ہی بُرے غلام کی طرح ہوکہ اگر اُسے ڈر نہ ہو تو کام نہ کرے ۔(2)
باطنی مناسبت والے سے محبت :
٭…پانچویں سبب کے اعتبار سے دیکھیں اور وہ یہ ہے کہ مُناسَبَت اور مُشاکَلَت یعنی ہم شکل ہونا:کیونکہ چیز جس کے مشابہ ہوتی ہے اس کی طرف کھنچتی ہے اور ایک شکل دوسری شکل کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے تم بچے کو بچے کے ساتھ،بڑے کو بڑے کے ساتھ اور پرندے کو اپنے ہم جنس کے ساتھ محبت کرتا پاؤگے اور دوسری جنس کے ساتھ نفرت کرتا دیکھو گے۔ نیز عالِم کو کاریگر کی بَنِسْبَت عالِم سے زیادہ اُنسیت ہوتی ہے اور بڑھئی کو کسان کے مقابلے میں بڑھئی کے سا تھ زیادہ الفت ہوتی ہےاور اس بات پر تجربہ شاہد ہے اور اخبار و آثار بھی اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے آدابِ صحبت میں’’رضائے الٰہی کے لئے اخوت ومحبت‘‘ کے تحت اسے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے ،اس کو وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
ظاہری وباطنی مناسبت:
پھر جب مناسبت باہمی محبت کا سبب ہے تو یہ دوطرح سے ہوتی ہے:(۱)…کبھی تو ظاہری معنی میں ہوتی ہے جس طرح بچے کو دوسرے بچے کے ساتھ بچپنے کی جہت سے مناسبت ہوتی ہے اور(۲)…کبھی مناسبت باطنی ہوتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلية الاولیاء،۳/ ۲۷۹،حدیث:۳۹۶۲،الرقم:۲۴۰،سلمة بن دینار،بتغیر
2…حلية الاولیاء،۴/ ۵۶،حدیث:۴۷۳۱،الرقم:۲۵۰،وھب بن منبہ