وصفات اور اسماءُ الحسنٰی کے طرف دیکھنے سے ہوگا یا پھر اس کے افعال، اس کی بادشاہی اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے ان میں نظر کرنے سے ہوگا۔
فکر کو ان اقسام میں قید کرنے کی وجہ تمہیں ایک مثال سے خوب واضح ہو جائے گی اور مثال یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف چلنے والے اور اس کی ملاقات کا شوق رکھنے والوں کا حال عاشق جیسا ہے لہٰذا ہم معشوق کی محبت میں ڈوبے ایک عاشق کی مثال پیش کرتے ہیں۔
محبَّتِ الٰہی میں مستغرق شخص کی مثال:
عشق کے غم میں ڈوبے عاشق کی فکر بس دو ہی باتوں میں ہوتی ہے یا تو اپنے معشوق کے بارے میں یا خود اپنی ذات کے بارے میں۔ اگر اس کی فکر معشوق کے بارے میں ہو تو یہ فکر اس کی ذات میں پائے جانے والے ظاہری حسن وجمال میں ہو گی تاکہ عاشق اس فکر ومشاہدے سے لذت حاصل کرے یا پھر معشوق کے حسین وجمیل افعال پر ہوگی جو اس کی اچھی عادات واخلاق پر دلالت کرتے ہوں گے تاکہ اس سے لذت مزید بڑھے اور محبت مضبوط ہو جائے۔ اگر اس کی فکر اپنی ذات میں ہو تو وہ اپنی ان صفات میں غوروفکر کرے گا جن کی وجہ سے محبوب کی نگاہوں سے گر جانے کا خوف ہے تاکہ ان سے خود کو پاک کر سکے یا پھر ان صفات میں غور کرے گا جو محبوب کے قریب کر دیں اور محبوب اس سے محبت کرے حتّٰی کہ یہ عاشق ان صفات سے موصوف ہو جائے۔ عاشق اگر ان کے علاوہ کسی خارجی چیز میں غوروفکر کرتا ہے تو وہ عشق کی تعریف سے ہی خارج ہے اور یہ نقصان کا باعث ہے کیونکہ کامل و مکمل عشق وہ ہوتا ہے کہ عاشق عشق کے سمندر میں ڈوبا رہے اور اس کے دل پر عشق اس طرح چھاجائے کہ غیر کی گنجائش ہی نہ ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے کا بھی یہی حال ہونا چاہئے اور اس کی نظر وفکر محبوب سے تجاوز نہ کرے۔ جب انسان کی فکر مذکورہ چار قسموں میں قید ہوجائے گی تو حقیقی طور پر وہ محبت کے تقاضے میں داخل ہو جائےگا۔
اب ہم (غور فکر کی)پہلی قسم سے شروع کریں گے یعنی اپنے افعال و عادات میں غوروفکر کرنا تاکہ ان میں سے اچھے اور برے میں تمیز کی جاسکے۔