Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
418 - 784
مائل ہوجاتا ہے جس کی طرف پہلے مائل نہ تھا جیسے آنکھ آگ کی روشنی سے متغیر ہو کر وہ دیکھ لیتی ہے جسے پہلے نہ دیکھ سکتی تھی، پھر دل کی حالت کے مطابق اعضاء عمل کے لئے تیارہوجاتے ہیں جیسے اندھیرے کے سبب عمل سے عاجز شخص  جب دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے تو عمل کے لئے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
	معلوم ہوا کہ  غوروفکر کا نتیجہ علوم اور احوال ہیں۔علوم کی تو کوئی انتہا نہیں اور احوال جو کہ دل پر بدل بدل کر آتے ہیں انہیں بھی شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے اگر کوئی شخص غوروفکر کے طریقوں، اس کے مقامات اور اُن اُمور کو جن میں وہ غوروفکر کرتا ہےشمار کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے ممکن نہیں کیونکہ غوروفکر کے مقامات بےشمار اور اس کے نتائج بےحساب ہیں۔ البتہ ہم اہم دینی عُلوم اور سالِکیْن کے اَحوال کے اعتبار سے غورو فکر کے مقامات تحریر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ احاطہ اجمالی ہوگا کیونکہ اس کی تفصیل تمام علوم کی وضاحت کا تقاضا کرتی ہے اور یہ تمام  اجمالی ابواب گویا ان علوم کی شرح ہیں کیونکہ یہ ایسے علوم پر مشتمل ہیں جو مخصوص افکار سے مُسْتَفاد ہیں۔چنانچہ اب ہم اجمالی طور پر ان کی گفتگو کرتے ہیں تاکہ غوروفکر کے مقامات پر آگاہی حاصل ہو جائے۔
تیسری فصل:				غوروفکر کے مقامات
	جاننا چاہئے کہ غوروفکر کبھی توایسے معاملے میں ہوتی ہےجس کا تعلق دین سے ہوتا ہے اور کبھی اس معاملے میں ہوتی ہے جس کا تعلق دین سے نہیں ہوتا۔ ہماری غرض وہ فکر ہے جس کا تعلق دین سے ہوتا ہے لہٰذا ہم دوسری قسم کو بیان نہیں کریں گے۔
غوروفکر کی دو اقسام:
	دین سے ہماری مراد وہ معاملہ ہے جو بندے اور اس کے رب عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان ہوتا ہے۔ بندے کی تمام افکار یا تو بندے سےاور اس کی صفات و احوال سے تعلق رکھتی ہیں یا ان کا تعلق معبودِحقیقی، اس کی صفات اور اس کے افعال سے ہوتا ہے۔ غور وفکر کرنے کی یہی دو قسمیں ہیں۔ پھرجن افکار کا تعلق بندوں سے ہے ان میں غور وفکر اس طرح ہوگا کہ وہ رب عَزَّ  وَجَلَّ کو پسندیدہ ہوگا یا نا پسند۔ ان دو کے سوا کسی اور طرف غوروفکر کرنے کی حاجت نہیں۔ جن افکار کا تعلق رب عَزَّ  وَجَلَّ سے ہے تو ان میں غوروفکر  اس کی ذات