Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
417 - 784
٭…ایک قول کے مطابق جو تقوٰی ومشاہدہ پیدا کرتا ہے وہ حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ اَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا ﴿۱۱۳﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے۔
	اگر تم غوروفكر كے باعث حالت کے بدلنے کی کیفیت جاننا چاہتے ہو تو اس کی مثال وہی ہے جو ہم نے آخرت کے معاملے کے طور پر پیش کی ہے کیونکہ اس میں غور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا ہی زیادہ بہتر ہے۔ جب یہ معرفت حقیقی طور پر ہمارے دلوں میں راسخ ہو جائے گی تو دل دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ حال سے ہماری یہی مراد ہے کیونکہ اس معرفت سے قبل دل کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دنیا کو پسند کرتا اور اس کی طرف مائل ہوتا ہےجبکہ  آخرت کو ناپسند کرتا اور اس میں بہت تھوڑی رغبت رکھتا ہے۔ اس معرفت کے بعد دل کا حال، رغبت اور ارادہ بدل جاتا ہے، پھر اس ارادے کی تبدیلی  کا ثمرہ ونتیجہ ظاہری اعضاءکے اعمال سے یوں ظاہر ہوتا ہےکہ آدمی  دنیا سے بےرغبت ہوکر اعمالِ آخرت کی طرف متوجہ ہو جاتاہے۔ اس طرح یہ پانچ درجات ہوئے۔
آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے پانچ درجات:
	(۱)…تَذَکُّر یعنی دونوں معرفتوں کا دل میں حاضر ہونا۔(۲)…غوروفکر یعنی ان دو معرفتوں سے مقصود تیسری معرفت کی طلب میں مشغول ہونا۔(۳)… مطلوبہ معرفت کا حاصل ہوجانا اور اس کے ذریعے دل کو منوَّر کرنے میں مشغول ہونا۔(۴)…نورِ معرفت کے حصول کے سبب دل کی حالت کا بدل جانا۔(۵)…دل کی اس نئی حالت کے بعد اعضاء کا دل کے تابع ہو جانا۔
	جس طرح  پتھر کو لوہے پر مارا جائے تو اس میں سے آگ کی چنگاری نکلتی ہے جو اس جگہ کو روشن کر دیتی ہے اور آنکھ دیکھ لیتی ہےاور اعضاءعمل کے لئے تیار ہو جاتےہیں ایسی ہی صورتِ حال نورِ معرِفت یعنی غور وفکر کی ہےکہ یہ دو  معرفتوں کو جمع کرتی ہے جیسے پتھر اور لوہاجمع ہوتے ہیں اور ان دونوں معرفتوں کے درمیان مخصوص ترتیب قائم کی جاتی ہے جیسے ایک مخصوص صورت پر پتھر کو لوہے پر مارا جاتا ہے، پھر نورِ معرفت پیدا ہوجاتا ہے جیسے لوہے سے آگ نکلتی ہے، پھر دل اس نور سے بدل جاتا ہے اور اس چیز کی طرف