نادر ہے اور کبھی یہ معرفت سیکھنے اور علم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حاصل ہو تی ہے اور یہ طریقہ زیادہ رائج ہے۔ بعض اوقات غوروفکر کرنے والے کو یہ معارف حاصل ہوتے ہیں اور یہ نتیجہ خیز بھی ہوتےہیں لیکن وہ ان سےنتیجہ حاصل کرنے کی کیفیت کا شعور نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے بیان کر سکتا ہے کیونکہ علم سے اس کا تعلق کم ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ اس بارے میں مہارت نہیں رکھتا۔ بہت سے انسان حقیقی طور پر یہ علم رکھتے ہیں کہ آخرت کو ترجیح دینا بہتر ہے لیکن اگر ان سے اس معرفت کا سبب پوچھا جائے تو وہ بیان کرنے پر قادر نہیں ہوتے حالانکہ یہ معرفت پہلی دو معرفتوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ پہلی دو معرفتیں یہ ہیں کہ باقی رہنے والا ترجیح کے زیادہ لائق ہے اور آخرت دنیا کے مقابلے میں باقی رہنے والی ہے۔ ان کے بعد تیسری معرفت حاصل ہوگی کہ آخرت کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ غوروفکر کی حقیقت پائےجانے کے لئے دو مَعرِفتوں کا حاضرہونا ضروری ہےجن کے ذریعے تیسری معرِفت تک پہنچا جاسکے۔
غور وفکر کا ثمرہ:
غور وفکر کا ثمرہ ونتیجہ علوم، اَحوال اور اعمال ہیں لیکن اس کا خاص ثمرہ علم ہے اس کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جب علم دل میں حاصل ہو جائے تو دل کی حالت بدل جاتی ہے اور جب دل کی حالت بدل جائےتو اعضاء کے اعمال بھی بدل جاتے ہیں، پس عمل حال کے ،حال علم کے اور علم غوروفکر کے تا بع ہے۔ تو غور وفکر تمام بھلائیوں کی ابتدا اور کنجی ہے۔ اس بات سے تجھ پرغوروفکر کی فضیلت آشکار ہوگئی۔
غور وفکر ذکر اورتَذَکُّر سے افضل ہے کیونکہ غوروفکر ذکر بھی ہے اور اس سے بڑھ کر بھی۔ دل کا ذکر اعضاء کے ذکر سے بہتر ہے بلکہ عمل کی بزرگی اسی وجہ سے ہے کہ اس میں ذِکْرِقلبی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ غور وفکر جملہ اعمال سے افضل ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ لمحہ بھر غور وفکر کرنا سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔
’’حال‘‘ سے کیا مراد ہے؟
٭…ایک قول یہ ہے کہ ناپسندیدہ سے پسندیدہ کی طرف اور رغبت وحرص سے زہد وقناعت کی طرف منتقل ہونا حال ہے۔