ہے جبکہ ان دونوں معنیٰ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے مطلقاً تلوار کوسَیْف کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حاصل شدہ دو باتوں کی پہچان اس حیثیت سے ہونا کہ ان سے تیسری بات کا نتیجہ حاصل ہو اس کو ’’اعتبار‘‘ کہا جاتا ہےاور اگر محض پہلی دو باتوں پر واقفیت ہو اس سے عبور نہ ہو تو اس کو ”تَذَکُّر“ کہتے ہیں نہ کہ ”اعتبار“ اور اس پر نظر اور غوروفکر کا اطلاق اس حیثیت سے ہوتا ہے کہ اس میں تیسری بات کو پہچاننے کی طلب ہوتی ہے۔ پس جو تیسری بات کو پہچاننے کا طلبگار نہ ہو اسے ناظِر(یعنی غوروفکر کرنے والا) نہیں کہیں گے۔
معلوم ہوا کہ ہرمُتَفَکِّر، مُتَذَکِّر تو ہے لیکن ہرمُتَذَکِّر، مُتَفَکِّرنہیں۔ تَذَکُّر کا فائدہ ہے دل پر معارِف کا تکرار کرنا تاکہ یہ معارِف پختہ ہو جائیں اور مٹنے نہ پائیں جبکہ غوروفکر کا فائدہ علم بڑھانا اور ایسی مَعرِفت کے حصول کی کوشش کرنا ہے جو پہلے حاصل نہ ہو۔غوروفکر اور تَذَکُّر کے مابین یہی فرق ہے۔
معارف جب دل میں جمع ہوجائیں اور ان میں مخصوص ترتیب قائم ہوجائے تو یہ ایک مَعرِفت کا فائدہ دیتے ہیں یعنی معرفت کا نتیجہ معرفت ہی ہوتی ہے۔ جب دوسری معرفت حاصل ہو جائے تو یہ ایک اور معرفت کے ساتھ مل جاتی ہے جس کے نتیجے میں مزید ایک معرفت کا حصول ہوتا ہے۔ اس طرح یہ نتائج، علوم اورغور وفکر بڑھتےبڑھتےایک ایسے سلسلے تک پہنچ جاتے ہیں جس کی انتہا معلوم نہیں۔ معارف کی زیادتی کا راستہ موت یا رُکاوٹوں کے ذریعے ہی بند ہوتا ہے۔یہ اس شخص کے لئے ہے جو علم کا پھل کھانے اور غور وفکر کی راہ پر قادر ہوتا ہے جبکہ عام لوگ اکثر علوم میں زیادتی سے اس لئے رُک جاتے ہیں کہ ان کے پاس رأس المال (یعنی بنیادی شے) نہیں ہوتی اور وہ ہے ’’معارف‘‘ جن کے ذریعے علوم بڑھتے ہیں۔ اسے آپ یوں سمجھیں جیسے کسی کے پاس کوئی سامان ہی نہ ہو تو وہ نفع پر کیسے قادر ہو سکتا ہے؟ اگر کبھی سامان کا مالک بن بھی جائے لیکن تجارت کے گُر نہ جانتا ہو تب بھی کسی چیز سے نفع نہیں اٹھا سکتا۔ یوں ہی کسی کے پاس معارف تو ہوتے ہیں جو علوم کا اصل سرمایہ ہیں لیکن وہ ان کا درست استعمال نہیں جانتا اور نہ ہی ایسی ربط والی ترتیب جانتا ہے جو ان معارف کے نتائج تک پہنچا سکے۔
معارف استعمال کرنے اور فائدہ حاصل کرنے کے طریقے کی مَعرِفت کبھی فطری طور پر دل میں حاصل ہونے والے نورِالٰہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جیساکہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے لئےلیکن اس کا وجود