دوسری فصل: غوروفکر کی حقیقت اور اس کا ثمرہ
غور وفکر کی حقیقت:
جان لیجئے کہ غوروفکر کا مطلب ہےدو مَعرِفتوں کا دل میں حاضر ہونا تاکہ ان سے تیسری مَعرِفت حاصل ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص دنیا کی طرف مائل ہے اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ دنیا کی بنسبت آخرت کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔ تو اس کے دو طریقے ہیں:
٭…پہلا طریقہ:کسی دوسرے شخص کے منہ سے سن لے کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کوترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔ اب حقیقَتِ حال جانے بغیر اس کی تصدیق وتقلید کر لے اورمحض اس کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے عمل کے ذریعے آخرت کو ترجیح دینے کی طرف مائل ہو جائے۔ اس طریقے کو معرفت نہیں بلکہ تقلید کہتے ہیں۔
٭…دوسرا طریقہ: یہ بات جانے کہ جو باقی رہنےوالا ہے وہ ترجیح کے زیادہ لائق ہے، پھر یہ جانےکہ آخرت ہی باقی رہنےوالی ہے، یوں اسے ان دو باتوں کو جاننے کے سبب تیسری بات معلوم ہوجائے گی کہ آخرت کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔
اس بات کو جاننا کہ آخرت کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے سابقہ دونوں باتیں جانے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا سابقہ دونوں باتوں کودل سے جاننا تاکہ ان سے تیسری بات معلوم ہو اسی کو غور وفکر، اعتبار،تَذَکُّر،نظر اور تاَمُّل وتَدَبُّر کہتے ہیں۔
اعتبار، تذکُّر اور نظر میں فرق:
غوروفکر، تَدَبُّر اور تاَمُّل یہ تینوں الفاظ مُترادف ہیں اور ان سب کا معنیٰ ایک ہی ہے جبکہ تَذَکُّر، اعتبار اورنظرمختلف معانی رکھتے ہیں اگرچہ بولے ایک ہی معنیٰ کے لئے جاتے ہیں جیساکہ صَارِم، مُھَنَّد اور سَیْف ایک ہی چیز (یعنی تلوار) کے لئے بولے جاتے ہیں لیکن اعتبارات مختلف ہیں۔ صَارِمکو اس حیثیت سے تلوار کہا جاتا ہے کہ وہ کاٹنے والی ہے اور تلوار پر مُھَنَّد کا اطلاق اس کی جگہ (یعنی ہند) کی طرف نسبت کرتے ہوئےہوتا