Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
413 - 784
رہے تھے اور روئے جارہے تھے حتّٰی کہ پڑوسی کے گھر میں جا گرے۔ مالک مکان برہنہ ہی بستر سے اُٹھ کھڑا ہوا، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، وہ سمجھا شاید کوئی چور ہے، جب اس کی نظر حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر پڑی تو واپس پلٹ گیا، تلوار رکھ دی اور کہنے لگا:”آپ کو کس چیز نے چھت سے گرا دیا؟“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”مجھے نہیں معلوم۔“
اعلٰی وافضل مجلس:
(20)…سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:”سب سے اعلیٰ وافضل مجلس میدانِ توحید میں غوروفکر کے ساتھ بیٹھنا، مَعرِفت کی خوش گوار ہَوا سے لُطف اندوز ہونا،چاہت کے سمندر سے محبت کے پیالے پینا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف حُسْنِ ظن کی نظر رکھنا ہے۔“ پھر فرمایا: ”ان مجلسوں کی کیا ہی شان ہے اور ان کی شراب کتنی لذیذ ہے، خوش خبری ہے اس کے لئے جسے یہ نصیب ہوجائیں۔“
چار فضیلتیں:
(21)…حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”خاموشی کے ذریعے کلام پر اورغورو فکر کے ذریعے نتیجہ اَخذ کرنے پر مدد چاہو۔“مزید آپ فرماتے ہیں:”معاملات میں درست نظر دھوکے سے بچاتی ہے، رائے کی پختگی ندامت و کوتاہی سے سلامت رکھتی  ہے، غور وفکر احتیاط ودانائی کو ظاہر کرتا ہے، دانشمندوں سے مشورہ نفس میں پختگی اور بصیرت کی قوت ہےلہٰذا رادہ کرنے سے قبل غور وفکر کرو، کوئی  کام سر پرآپڑنے سے پہلے اس کی تدبیر کرواور قدم اٹھانے سے پہلے مشورہ کرو۔“آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں کہ فضیلتیں چار ہیں: (۱)…حکمت، اس کا مادہ غوروفکر میں ہے۔ (۲)…پاک دامنی، اس کا مادہ خواہش کو چھوڑدینا ہے۔ (۳)…قوت، اس کا مادہ غصے کو چھوڑدینا ہے اور (۴)…مساوات، اس کا مادہ نفسانی قوتوں  کا معتدل ہوجانا ہے۔
	غور وفكر كے بارے میں علما کے یہ چند اقوال ذکر کیے گئے ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی اس کی حقیقت اور اس کے مقامات کو بیان نہیں کیا گیا۔