Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
412 - 784
(14)…حضرت سیِّدُنا ابوشُرَیْح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک مرتبہ چلتے چلتے اچانک بیٹھ گئے اور اپنے اوپر چادر ڈال کر رونا شروع کر دیا۔ان سے کہا گیا:”حضور کیوں رورہے ہیں؟“ فرمایا:”میں نے عمر کے چلے جانے، عمل کی قِلَّت اور موت کے قریب آنے میں غوروفکر کیا (تو مجھے رونا آگیا)۔“
دلوں کو زندہ کرنے والی فکر:
(15)…حضرت سیِّدُنا ابوسُلَیْمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:”اپنی آنکھوں کو رونے اور دل کو غور وفکر کا عادی بناؤ۔“آپ نے مزید فرمایا:”دنیاکی فکر آخرت سے رکاوٹ اوردنیاوی عہدیدار کے لئے سزا ہے جبکہ آخرت کی فکر حکمت پیدا کرتی اور دلوں کو زندہ کرتی ہے۔“
(16)…حضرت سیِّدُنا حاتم اَصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں:”عبرت علم میں اضافہ کرتی ہے، ذکر محبت بڑھاتا ہے اور غوروفکر سے خوفِ خدا بڑھتاہے۔“
(17)…حضرت سیِّدُنا ابْنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”بھلائی میں غور وفکر کرنا اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور بُرائی پر نادم ہونا  بُرائی چھوڑنے پر اُبھارتا ہے۔“
رب تعالٰی ہرایک کا کلام قبول نہیں فرماتا:
	مروی  ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کسی صحیفے میں فرمایا:”میں ہر حکمت والے کا کلام قبول نہیں کرتا بلکہ میں اس کے ارادے و خواہش کی طرف دیکھتا ہوں اگر اس کا ارادہ و خواہش میرے لئے ہو تو میں اس کی خاموشی کو تفکر اور اس کے کلام کو حمد بنا دیتا ہوں اگرچہ وہ کلام نہ کرے۔“
(18)…حضرت سیِّدُنا حسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا:”عقل مندلوگ ذکر کے ساتھ غوروفکر اور غور وفکر کے ساتھ ذکر کے عادی ہوتے ہیں حتّٰی کہ جب ان کے دل بولتے ہیں تو حکمت کے پھول جھڑتے ہیں۔“
حکایت:مجھے نہیں معلوم
(19)…حضرت سیِّدُنا اسحاق بن خَلَف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چاندنی  رات میں چھت پر کھڑے آسمان کو دیکھ کر آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں غور وفکر کر