Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
411 - 784
”قرآنِ مجید میں دیکھنا، اس میں غور وفکر کرنا اور اس کے عجائبات سے عبرت حاصل کرنا۔“(1)
(7)…مکَّۂ مکرّمہ کے قریب رہنے والی ایک دیہاتی عورت نے کہا:”اگر متّقی لوگوں کے دل غور وفکر کے ذریعے اس چیز کا مشاہدہ کریں جو غیب کے پردوں میں اُخروی بھلائی کی صورت میں ان کے لئے ذخیرہ کی گئی ہے تو دنیا میں رہنا انہیں گوارا نہ ہو اور نہ ان کی آنکھوں کو دنیا میں قرار آئے۔‘‘
لمبی فکر راہِ جنت کی راہنمائی کرتی ہے:
(8)…حضرت سیِّدُنا حکیم لقمان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن تنہائی میں دیر تک بیٹھے رہتے، ان کا آقا ان کے پاس سے گزرتا تو کہتا:”اے لقمان! تم اتنی دیر تک تنہا بیٹھے رہتے ہو اگر لوگوں کے ساتھ بیٹھو تو کچھ دل لگ جائےگا۔“ حضرت سیِّدُنا حکیم لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے:”طویل تنہائی سے فکر میں زیادہ سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے اور لمبی فکر راہِ جنت کی راہنمائی کرتی ہے۔“
(9)…حضرت سیِّدُنا وَہب بن مُنَبّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”جب کسی شخص کی فکر طویل ہوجائے تووہ جان لیتا ہے اور جب کوئی شخص جان لیتا ہے تو وہ عمل کرتاہے۔“
(10)…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں میں غور وفکر کرنا افضل عبادت ہے۔“
(11)…ایک دن حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناسَہل بن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کو خاموش اور فکر مند دیکھا تو پوچھا:”کہاں پہنچ گئے؟“انہوں نے کہا:”پل صراط تک۔“
(12)…حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں:”اگر لوگ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عظمت میں غور وفکر کریں تو کبھی اس کی نافرمانی نہ کریں۔“
رات بھر قیام سے بہتر:
(13)…حضرت سیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا:”غور وفکر سے پڑھی جانےوالی دو رکعتیں بےدلی سے کیے جانے والے پوری رات کے قیام سے بہتر ہیں۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکر فی اٰیات اللّٰہ، ص۲۰، حدیث:۱۲