عمل کا مغز:
(4)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے کہا گیا کہ آپ بہت طویل غور وفکر کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:”غوروفکر عمل کا مغز ہے۔“
(5)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اکثر یہ شعر بطورِ مثال بیان کرتے:
اِذَا الْمَرْءُ كَانَتْ لَهٗ فِكْرَةٌ فَفِیْ كُلِّ شَیْءٍ لَهٗ عِبْرَةٌ
ترجمہ:جب انسان غوروفکر کرتا ہے تو اسےہر شےسے عبرت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیروحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےحواریوں نے آپ سے کہا:”یَاروحَ اللہ! کیا آج روئے زمین پر آپ کی مثل کوئی ہے؟“ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:”ہاں! جس کا بولنا ذکر، خاموش رہنا فکر اور نگاہ عبرت والی ہو تو وہ میری مثل ہے۔“
کلام، خاموشی اور نگاہ:
(6)…حضرت سیِّدُناحسن بَصْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا کہ جس کے کلام میں کوئی حکمت نہ ہو وہ بے کار ہے، جس کی خاموشی میں غوروفکر نہ ہو وہ غلطی ہے اور جس کی نگاہ میں عبرت نہ ہو وہ کھیل ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انھیں پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔
یعنی میں انہیں اپنی نشانی میں غور وفکر کرنے سے روک دوں گا۔
آنکھوں کو ان کا حق دو:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، شفیع روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے ان کا حصہ دو۔“ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عبادت میں آنکھوں کا کیا حصہ ہے؟“ ارشاد فرمایا: