ہونے کا انکار کرتے ہیں؟یاپھراللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان اوصاف کے ساتھ مُتَّصِف نہیں مانتے؟ یا کمال،جمال اور عظمت کاادراک کرنے والے کے حق میں طبعی طور پر محبوب ہونے سے انکار کرتے ہیں؟
پاک ہے وہ ذات جو اپنے جمال و جلال پر غیرت کی وجہ سے اندھوں کی نگاہوں سے حجاب میں ہے۔ اُس پر وہی مُطَّلَع ہوتے ہیں جن کے لئےاُس کی طرف سے بھلائی کا وعدہ ہولیااورانہیں حجاب کی آتش سے دور رکھا گیاجبکہ خسارے والوں کو چھوڑ دیا کہ اندھے پن کی تاریکیوں میں حیران پھرتے ہیں، محسوسات کی چراگاہوں اور چوپایوں کی خواہشات میں تردُّد کا شکار ہیں، دنیاوی زندگی کے ظاہر کو ہی جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔ تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےہیں لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں ۔
بغیر عوض کے عبادت:
اس مذکورہ سبب سے محبت احسان کے سبب محبت سے قوی ہوتی ہے کیونکہ احسان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناداؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:’’اِنَّ اَوَدَّ الۡاَوۡدَاءِ اِلَیَّ مَنۡ عَبَدَنِیۡ بِغَیۡرِ نَوَالٍ لٰکِنۡ لَّیُـعۡطِیَ الرُّبُوۡبِیَّةَ حَقَّھَایعنی میرے نزدیک سب سے بڑھ کر محبوب وہ ہے جو کسی عوض کے بغیر میری عبادت کرے لیکن ربوبیت کا حق ضرورا داکرے۔“
زبور شریف میں ہے:’’مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ عَبَدَنِیۡ لِجَــنَّةٍ اَوۡ نَارٍ لَوۡلَمۡ اَخۡلُقۡ جَنَّةً وَلَا نَارًا لَّمۡ اَکُنۡ اَھۡلًا اَنۡ اُطَاعیعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون جو جنت یا جہنم کی وجہ سے میری عبادت کرے ،اگر میں جنت اور جہنم کوپیدا نہ کرتا تومیری اطاعت نہ کی اجاتی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے اولیا:
حضرتِ سیِّدُناعیسیٰروح اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک گروہ کے پاس سے گزرے، وہ لوگ کمزور ہوچکے تھے۔ انہوں نے اپنی حالت کا سبب یہ بتایا کہ ہم جہنم سے ڈرتے ہیں اور جنت کی امید رکھتے ہیں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:”تم ایک مخلوق سے ڈرتے ہو اور مخلوق ہی کے امیدوار ہو۔“ پھر اسی طرح کے ایک دوسرے گروہ کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے اپنی کمزوری کا سبب یہ بیان کیاہم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت اور اس کے جلال کی تعظیم کی وجہ سےاس کی عبادت کرتے ہیں۔تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:’’تم لوگ