تر ہوگئی، پھر سجدے میں گئے حتّٰی کہ زمین بھی بھیگ گئی، پھر کروٹ کے بل بیٹھے رہے یہاں تک کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجر کی اطلاع دی اور عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے وسیلہ سے آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیئے پھر آپ کو کس چیز نے رُلایا؟“ ارشاد فرمایا:اے بلال! میں کیوں نہ روؤں حالانکہ آج رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے: اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔
پھر فرمایا: خرابی ہے اس کے لئے جو اس کو پڑھے اور اس میں غور وفکر نہ کرے۔(1)
حضرت سیِّدُنا امام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ زمین وآسمان کی تخلیق اور دن رات کے بدلنے کے متعلق غور وفکر کی انتہا کیا ہے؟ تو فرمایا: انہیں پڑھنا اور سمجھنا۔
غوروفکر کے متعلق21 اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ النَّافِع بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوذرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد ایک بصری شخص آپ کی والدہ کے پاس آیا اور ان سے حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عبادت کے متعلق پوچھاتو انہوں نےفرمایا:”وہ دن کا اکثر حصہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھے غور وفکر کرتے رہتے۔“
(2)…حضرت سیِّدُنا حسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”لمحہ بھر کا غور وفکر پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔“
(3)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”غور وفکر ایک ایسا آئینہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب التوبة، ۲/ ۸، حدیث:۶۱۹
مشکل الاٰثار للطحاوی، باب بیان…فی السبب الذی فیہ نزلت:ان فی خلق السموات…الخ، ۱۰/ ۳۲۶، حدیث:۴۰۰۹