غوروفکر کے متعلق دو فرامین مصطفٰے:
(1)…ایک دن رحمَتِ عالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابَۂ کرام کی ایک جماعت کے پاس آئے جو غور وفکر میں مصروف تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم کلام کیوں نہیں کر رہے؟“ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:”ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کررہے ہیں۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم ایسے ہی کرتے رہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اوراس کی ذات میں غور وفکر نہ کرو، مغرب کی جانب ایک سفید زمین ہے جو چالیس دن کی مسافت پر واقع ہے، اس کا نور اس کی سفیدی ہے، وہاں مخلوقِ خدا میں سے ایک ایسی مخلوق ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی۔“ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! شیطان ان میں نہیں؟“ ارشاد فرمایا:”وہ نہیں جانتے کہ شیطان پیدا بھی ہوا ہے یا نہیں۔“ عرض کی گئی:”کیا وہ اولادِ آدم ہیں؟“ ارشاد فرمایا:”وہ توحضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَام کے پیدا ہونے یا نہ ہونے کو بھی نہیں جانتے۔“(1)
(2)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن ابورَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میں اورحضرت عبید بن عُمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دن حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس گئے، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا:”اے عبید! ہمارے پاس آنے سے تمہیں کیا چیز روکتی ہے؟“ عرض کی: آقائے دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ”کبھی کبھی ملنا محبت بڑھاتا ہے۔“ پھر حضرت سیِّدُناعُبَیْد بن عُمَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”آپ ہمیں رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کوئی بہت ہی پسندیدہ بات ارشاد فرمائیں جو آپ نے ان میں دیکھی ہو۔“یہ سن کر حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں اور فرمایا:آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہرمعاملہ ہی پسندیدہ ہے، ایک رات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے حتّٰی کہ میرا جسم ان کے جسم سے مَس ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”مجھے چھوڑدو، میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا چاہتا ہوں۔“ چنانچہ آپ مشکیزے کی طرف بڑھے، اس سے وضو فرمایا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔نماز میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس قدر روئے کہ آپ کی مبارک داڑھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی، باب ما ذکر من کثرة عبادة اللّٰہ…الخ، ص۳۲۵، حدیث:۹۶۰