نہیں کہ غوروفکر ہی انوار و تجلیات کی چابی اور بصیرت کی ابتدا ہے۔یہ علوم کے لئے مچھلی کے جال کی طرح اور معارف ومفاہیم کے لئے شکار گاہ ہے۔ اکثر لوگ اس کی فضیلت اوررُتبے کو تو جانتے ہیں لیکن وہ اس کی حقیقت، فوائد، ابتدا ، کیفیت اور اس کے راستوں سے بے خبر ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ غور وفکر کیسے کریں؟ کس کے بارے میں کریں؟ کیوں کریں؟ فکر سے مطلوب کیا ہو؟مقصود بذاتِ خود فکر ہے یا اس سے کوئی فائدہ مقصودہے؟ اگر ثمرہ ونتیجہ مقصود ہے تو وہ علوم ہیں یا احوال یا علوم واحوال دونوں؟
ان تمام باتوں سے پردہ اٹھانا ضروری ہے۔ پہلےہم غور وفکر کی فضیلت پھر اس کی حقیقت اور پھر اس کا نتیجہ بیان کریں گے اور اس کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ مقاماتِ فکر بیان کریں گے۔
باب نمبر1: غور وفکر کی فضیلت، حقیقت اور اس کے مقامات
(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل: غور وفکر کی فضیلت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتابِ عزیز میں بے شمار مقامات پرغورو فکر کرنے کا حکم دیا اورغوروفکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے: الَّذِیۡنَ یَذْکُرُوۡنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹےاور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔
حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ ذاتِ باری تعالیٰ میں غور وفکر کرنے لگے تو سیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو کیونکہ تم رب تعالیٰ کو نہیں جان سکتے جیسے اسے جاننے کا حق ہے۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکر فی اٰیات اللّٰہ، ص۱۸، حدیث:۵