Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
406 - 784
فکر  و عبرت کا بیان
	تمام تعریفیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی بُزرگی کا  کوئی جہت وکنارہ نہیں اور نہ ہی اس کی عظمت کی بلندی تک پہنچنے کے لئے ذہنی تصورات اورعقلوں کوکوئی راہ ہےبلکہ امید واروں کے دل اس کی کبریائی کے صحرا میں حیران وپریشان ہیں۔ جب یہ حیرانگی اپنے مطلوب کو پانےکی کوشش میں جوش مارتی ہے تو اُس کے جلال کے پردے اِسے پیچھے دھکیل دیتے ہیں اور جب مایوس ہوکر واپس جانے کا ارادہ کرتی ہے تو جمال کے پردوں سے آواز آتی ہے (راہ ِ سُلوک پر )صبر کر!صبر کر! پھر اس سے کہا جاتا ہے:”اپنے بندہ ہونے کی پستی میں غور وفکر کرو کیونکہ اگر تم جلالِ رَبوبِیَّت میں غور وفکر کرو گے تو اس تک نہ پہنچ سکو گے۔ اگر تم اپنے بارے میں غور وفکر کرنا نہیں چاہتے تو دیکھو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے انعام واحسان کیسےمسلسل  تم پر برس رہے ہیں لہٰذا ہرنعمت پر نئے سرے سے ذکر وشکر کرواور تقدیر کے سمندر میں غور وخوض کرو کہ کس طرح عالَمِین پر خیر وشر، نفع و نقصان ، تنگی و آسانی، کامیابی و ناکامی ، جوڑ توڑ، لپیٹنا اور پھیلانا ، ایمان و کفراور  پہچان اور انکار کو جاری کیا گیا ہے۔اگر نظر افعال سے ذات کی طرف بڑھی تو یقیناً تم نے بہت بڑی جرأت کی اور ظلم اور ناانصافی کے سبب اپنے نفس کو بشریت کی حد سے آگےبڑھنے  کے خطرے میں ڈال دیا حالانکہ عقلیں تو نورِ جلال کی ابتدا میں ہی مغلوب ہوگئیں اور مجبوراً اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے لوٹ گئیں (نورِ جلال کی انتہا تودور کی بات ہے)۔
	خوب  دُرود وسلام ہو اُن پر جو اولادِ آدم کے سردار ہیں اگرچہ انہوں نے اس سرداری  کو فخر شمار نہ کیا ، ایسا دُرود جو میدانِ قیامت میں ہمارےلئے ذخیرہ ووسیلہ ہوجائے  اور آپ کی آل و اَصحاب پربھی خوب دُرود وسلام ہو جن میں سے ہر ایک آسمانِ دین کا بدرِ کامل(یعنی مکمل چاند) اور مسلمان جماعتوں کا قائدہے۔
ایک سال کی عبادت سے بہتر:
	حدیْثِ مبارک میں آتا ہے:”لمحہ بھرغور وفکر کرنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔“(1)
	قرآنِ مجید میں سوچ وبچار، انجام کی فکر  اورعبرت کے حصول پر بہت زیادہ ابھارا گیا ہے۔ یہ بات مخفی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی،باب ما ذکر من الفضل فی المتفکرفی ذالک، ص۳۳، حدیث:۴۴
	قوت القلوب،الفصل السادس:فی ذکرعمل المرید بعدصلاةالغداة، ۱/ ۲۹