عبید! کیا معلوم تیرےسرکے لئےگُرزتیار ہوں۔ہائے عبید!طلب گاروں کی حاجتیں پوری ہوجائیں لیکن شاید تیری حاجت پوری نہ ہو۔“
ایک عبادت گزارکی مناجات:
حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے کوفہ میں ایک عبادت گزار کو یوں مناجات کرتے ہوئے سنا:”اے میرے رب !تیری عزت وجلال کی قسم! میں نافرمانی كركے تیری مخالفت ہرگز نہیں چاہتاتھا،تیرےمقام سے ناواقف تھا اس لئےنافرمانی ہوگئی، میں نہ توخودکو تیرے عذاب کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی تیری بارگاہ میں حقیر ہونا چاہتا ہوں،نفس نےگناہوں کو اچھا بناکر پیش کیا،بدبختی مجھ پر غالب آگئی، تیری ڈھیل سے دھوکےمیں رہا،لہٰذا اپنی جہالت کے سبب تیری نافرمانی کا مرتکب ہوا اور اپنے عمل سے تیری مخالفت کی۔اب تیرے عذاب سے مجھے کون بچائے گا ؟اگر تیری بارگاہ میں نہ آؤں تومیں کہاں جاؤں؟ہائےافسوس!کل قیامت کے دن تیرے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔ ہلکے بوجھ والوں کو کہا جائے گا: گزر جاؤ۔ اور بھاری بوجھ والوں کو کہا جائے گا: ٹھہرے رہو۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں ہلکے بوجھ والوں میں سے ہوں یا بھاری بوجھ والوں سے۔ ہائےمیرے لئے خرابی!میری عمر زیادہ ہورہی ہے اور میرے گناہ بڑھتےجارہے ہیں۔میں کب تک یوں توبہ کرکے گناہ کرتا جاؤں گا؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ میں رب تعالیٰ سے حیا کروں؟“
بزرگانِ دین کا اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات کرنے اور اپنے نفس کو ملامت کرنے کا یہ طریقہ تھا۔ وہ مناجات کے ذریعے اپنے رب کی رضا چاہتے تھے اور ان کامقصد نفس کوملامت کرکے اسے تنبیہ کرنا اور عاردلانا تھا۔ جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات اورنفس کوملامت کرنے میں سستی کرتا ہےوہ نفس کی نگرانی کرنے والا نہیں اور ممکن ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسےشخص سے راضی بھی نہ ہو۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے’’مراقبہ ومحاسبہ کا بیان‘‘مکمل ہوا
٭…٭…٭…٭…٭…٭