Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
404 - 784
 عاجزی وانکساری،مفلسی ومحتاجی اور  بے کسی وبےبسی کی حالت میں تیری بارگاہ میں عرض گزار ہوں۔ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن!میری مدد فر ما،اس مشکل کودورفرما،اپنی رحمتوں کانزول فرما،اپنے عفووکرم کاجام پلا اور مجھے گناہوں سے بچا۔“
300سال تک گریہ وزاری:
	اے نفس!اس سلسلے میں تو اپنے والد حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اقتدا کر کہ حضرت سیِّدُنا وہب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو جنت سے زمین پر بھیجا تو آپ اس قدر روئے  کہ آنسو نہ  تھمتے تھے۔ساتویں دن  آپ سر جھکائے گریہ وزاری کررہے تھےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے وحی فرمائی:اے آدم!اس قدرکیوں رورہے ہو؟آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کی:اےمیرےرب!جنت سےزمین پرآجانامصیبت خیال کررہاہوں،لغزش کے باعث جنت سے دور ہوں،عزت وسعادت اورراحت وعافیت والےمقام سےیہاں آپہنچاہوں،دائمی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والے مقام سےاس فانی جگہ میں  آگیا ہوں تو میں کیونکراپنی لغزش پر گریہ وزاری نہ کروں؟اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرمایا:اے آدم!کیا میں نے تجھےاپنےلئے منتخب نہ کیا، تجھےجنت میں نہ ٹھہرایا، تجھے عزت و کرامت سےنہ  نوازا، اپنی ناراضی سے نہ ڈرایا، تجھے اپنے دسْتِ قدرت سے نہ بنایا، تجھ میں روح نہ ڈالی اور فرشتوں سے سجدہ نہ کروایا، تم سے خطا ہوئی، میرے عہد کو بھول گئے اور میری ناراضی  مول لی مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! اگر میں تمام زمین کوتم  جیسے لوگوں سے بھردوں اور وہ سب میری عبادت کریں، میری پاکی بیان کریں پھر میری نافرمانی کریں تو میں ان سب  کو خطاکارٹھہراؤں گا۔یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام 300سال تک روتے رہے۔
سیِّدُناعبیداللہ بَجَلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مناجات:
	حضرت سیِّدُناعبیداللہ بَجَلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبہت گریہ وزاری کیا کرتے۔ رات بھر روروکر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات کرتے:”الٰہی!میں وہ ہوں جس کی عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ  گناہ بھی بڑھ رہے ہیں، الٰہی! میں وہ ہوں جو گناہ چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کوئی دوسری شہوت آگھیرتی ہے۔افسوس عبید! ایک گناہ پرانانہیں ہوتا اور تو دوسرے گناہ میں پڑ جاتا ہے۔ہائے عبید!اگرجہنم ٹھکانا بن گیاتو کیا کرے گا؟آہ