Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
403 - 784
 وباطن گناہوں کی نحوست  سے سیاہ ہوچکاہے تو اب خودکوجہنمی تصورکرکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جنت کو پیدا کیا تو اس کےحقداروں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس کےاہل کوبھی پیدا کیا،پس ہر ایک کواس کاحصہ مل گیا،لہٰذااب تجھ میں نصیحت  قبول کرنے کی گنجائش نہ رہی، اب تو اپنے نفس سے نااميد  ہوجا لیکن ناامیدی تو بہت بڑا گناہ ہے جس سے ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔اب تیرے لئے ناامیدی کا راستہ بھی بنداور  امید کاراستہ بھی بندنیزنیکی کے تمام راستے تجھ پر بند ہوچکے ہیں،اگرتوکوئی امید باندھے گا بھی تووہ دھوکا ہی ہوگا۔اب توغور کر کہ جس مصیبت میں مبتلاہےاس پر تجھے دکھ ہے یانہیں؟ خود پر تجھے ترس آکر آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں یا نہیں؟لہٰذا اگر آنسو بہتے ہیں اور  ان کا منبع بحْرِ رحمت ہےتو معلوم ہوا کہ ابھی امید کی کرن باقی ہے لہٰذا رونا دھونا اپنا وطیرہ بنالے، سب سے زیادہ رحم کرنے والی ذات سے مدد مانگ، سب سے زیادہ کریم کی بارگاہ میں التجاکر،اس سے مسلسل مدد مانگتارہ اورالتجا کےدراز ہونے سے نہ اُکتا۔ ممکن ہے وہ تیری ناتوانی  پر رحم فرمائے، تیری فریاد رسی کرےکیونکہ تیری مصیبت بہت بڑی ہے،  توسخت آزمائش میں ہے،نافرمانی بڑھ گئی ہےاور کوئی حیلہ اور عذر باقی نہیں رہا۔اب کوئی بچنے  کا طریقہ  ہے نہ تلاش کی جگہ،نہ کوئی مددگاراور نہ ہی راہ ِفرار۔تیرے مولیٰ کے علاوہ اب کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ بھی نہیں، لہٰذا آہ و زاری کے ساتھ اس کی بارگاہ میں  حاضر ہوجا، اپنی جہالت اور گناہوں کی کثرت کے مطابق عاجزی وانکساری  کا مظاہرہ کرکیونکہ وہ عاجزی وانکساری کرنے والے بندے پررحم فرماتا ہے،حسرت زدہ طالب کی مددکرتا ہےاورمجبورکی دعا کو قبول فرماتا ہے۔آج تواسی کی طرف  مجبور اور اس کی رحمت کا محتاج ہے باقی تمام  راستے تجھ پربند ہوگئے ہیں، تمام اسباب منقطع ہوچکے ہیں، وعظ ونصیحت تجھے فائدہ نہیں دی رہی اور ڈانٹ ڈپٹ اورملامت  کاتجھ پرکوئی اثر نہیں ہورہاتوجس سے طلب کررہا ہے وہ کریم ذات ہے،جس سے مانگ رہاہےوہ جوادہے،جس سے مدد طلب کررہا ہے وہ احسان فرمانے والا مہربان ہے، اس کی رحمت وسیع، فیضانِ کرم جاری وساری  اور اس کاعفو و درگزر عام ہے۔
گناہ گار کی دعا:
	تم اس کی بارگاہ میں عرض کرو:”یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن،یَارَحْمٰن،یَارَحِیْم،یَاحَلِیْم،یَاعَظِیْم، یَاکَرِیْممیں گناہوں پر مُصِر اور جری رہا اور عرصَۂ دراز سے گناہ کرتارہا نیز گناہ کرتےوقت مجھے کبھی شرم نہ آئی۔ آج میں انتہائی