Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
401 - 784
ہےاوروعدہ  خلافی کرتاہے۔ ان خطاؤں کے باوجود اپنی دنیا بسانےمیں  لگا ہوا ہےگویا تویہ سمجھ بیٹھا ہے کہ تجھے یہاں سے جانا نہیں۔ کیا تو  قبرستان والوں کو نہیں دیکھتا وہ دنیا میں کیاکر تے رہے ؟سامان جمع کیا، عالیشان مکانات بنائے اورلمبی لمبی امیدیں باندھتے رہےلیکن ان کا جمع شدہ مال تباہ و برباد ہوگیا،مکانات قبروں میں بدل گئےاورامیدیں دھوکےکاسامان ہوگئیں۔
	اے نفس!تجھے کیا ہوگیا ہے کہ  تو عبرت حاصل نہیں کرتا؟کیوں توان کےحالات نہیں دیکھتا؟کیا  تیرا  یہ خیال ہےصرف انہی کو آخرت کاسامناہوگا اور تو ہمیشہ یہیں رہےگا؟ایسا کبھی نہیں ہوگاتیرا یہ گمان فاسد ہے، توپیدائش سے اب تک عمر ضائع کر رہا ہے۔زمین پرتو اپنے لئے عمارت بناتا ہےلیکن  تھوڑی ہی مدت کے بعد اس کےاندر تیری قبر ہوگی۔کیا تجھے اس بات کا ڈر نہیں جب روح قبض ہونے کےبعد فرشتے تیرے پاس آئیں گےجن کے رنگ سیاہ اور چہرے تُرش رُو ہوں گے،وہ  تجھے عذاب کی خوش خبری سنائیں گے۔ اس وقت تجھے ندامت کچھ فائدہ نہ دے گی اور تیراغمگین ہونا اوررونادھوناتیرے کچھ کام نہ آئے گا۔
	اے نفس!بڑے تعجب کی بات ہے کہ اتنی بے وقوفی کے باوجودتو بصیرت اور دانائی کا دعوٰی کرتا ہے۔ کیایہی تیری دانائی ہے کہ توروزبروزمال کی  زیادتی پر خوش ہوتا ہےاورزندگی کم ہونے پر غمگین نہیں ہوتا؟ زندگی کے کم ہونے پر مال کی زیادتی تجھے کیا فائدہ دے گی ؟
	افسوس تجھ پر اے نفس!تو آخرت سےاعراض کرتاہے حالانکہ وہ تیری طرف بڑھ رہی ہے اور تو دنیا کی طرف بھاگتا ہے حالانکہ وہ تجھ سے منہ پھیرے جارہی ہے۔کتنے ہی لوگ ایسےہیں جنہوں نے کل پر کام رکھا لیکن پورانہ کرسکےاور کتنی  ہی آرزوئیں ایسی ہیں جوپوری نہ ہوسکیں۔تو ان سب چیزوں کا مشاہدہ اپنے بھائیوں،عزیزو اقارب اور پڑوسیوں میں کرتا ہےاورانہیں موت کے وقت حسرت زدہ دیکھتا ہے پھربھی  جہالت سےباز نہیں آتا۔
	 اے نفس!اس دن سےڈر جس کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ قسم یاد فرمائی ہے کہ وہ بندے کواس وقت تک نہیں چھوڑے گاجب تک ہراس چھوٹےبڑے،ظاہروپوشیدہ عمل کا حساب نہ لے لے جس کے کرنے یا نہ کرنے کادنیا میں حکم دیاتھا۔