افسوس تجھ پر اے نفس! کیا تجھے حیا نہیں آتی؟مخلوق کےلئے ظاہر کو مُزَیَّن کرتا ہےلیکن باطن میں بڑے بڑے گناہ کرکےخالِقِ کائنات کی نافرمانی کرتا ہے۔تومخلوق سے حیا کرتا ہے لیکن خالق سے حیا نہیں کرتا۔ بدبخت!توکیا سمجھےبیٹھاہے وہ تجھے نہیں دیکھ رہا؟تولوگوں کو نیکی کی دعوت دیتاہےاورخود گناہوں میں آلودہ رہتا ہے،لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف بلاتا ہے اور خود اس سے بھاگتا ہے،دوسروں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کی تلقین کرتا ہےلیکن خود اسے بھلائےبیٹھاہے۔
اے نفس!کیا تو یہ نہیں جانتا کہ گناہ پا خانے سے زیادہ بدبودار ہے اور پاخانہ کسی چیز کو پاک نہیں کرتا لہٰذا جب تو خود گناہوں کی نجاست سے آلودہ ہے تو دوسروں کو پاک کرنے کی طمع کیوں کرتا ہے؟
افسوس تجھ پر اے نفس!اگر تجھے اپنی حقیقت کا علم ہوجائے تو لوگوں کو پہنچنے والی مصیبت کاسبب اپنی نحوست کوخیال کرے۔ .أ
اے نفس!تجھ پرافسوس کہ تو نےخود کو شیطان کا گدھا بنالیا ہے جو تجھے جہاں چاہتاہےلے جاتا ہے اور اس نے تجھے مغلوب کررکھاہےپھربھی تو اپنے عمل پر خوش ہوتا ہےحالانکہ وہ عمل آفات سے لبریز ہوتا ہے۔ اگرتونے اپنے عمل کو آفات سے مکمل طورپر بچا لیا تو یہ تیرے لئے کامیابی ہےلیکن تعجب ہےتوگناہوں کی کثرت کے باوجود اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔شیطان دو لاکھ سال تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتارہالیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسےایک گناہ کی وجہ سے مردود قراردیا اور حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکونبی اور برگزیدہ ہونے کے باوجودایک لغزش(1) کے سبب سے جنت سے جدا ہونا پڑا۔
افسوس تجھ پر اے نفس!تو کتناغدار، بے شرم ، جاہل اور گناہوں پر جرأت کرنے والاہے ،تو عہد توڑ تا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس لغزش کا پس منظر یہ ہے:شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (عَلَیْہِمَا السَّلَام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجْرِخُلد بتادوں؟حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے انکار فرمایا۔اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے؟ بایں خیال حضرت حوّا (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم(عَلَیْہِ السَّلَام)کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا، حضرت آدم (عَلَیْہِ السَّلَام)کو خیال ہوا کہ(فرمانِ الٰہی)لَاتَقْرَبَاکی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔(خزائن العرفان،پ۱، البقرة،تحت الاية:۳۶ )