Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
40 - 784
مثل نہیں۔وہ  ایسایکتا ہے جس کی کوئی ضد نہیں۔ ایسابے نیاز ہے جس کا کوئی مقابل نہیں۔ ایسا غنی ہے جس کو کوئی حاجت نہیں۔ایسا قادر ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جوچاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال سکتا ہے نہ کوئی اس کے فیصلے کو پھیر سکتا ہے۔عالِم ایسا ہے کہ زمین و آسمان میں ذرہ برابر شے اس سے مخفی (یعنی پوشیدہ )نہیں۔ غالب ایسا کہ بڑے بڑے جابروں اور سرکشوں کی گردنیں اس کے قبضَۂ قدرت سے باہر نہیں نکل سکتیں اورنہ  اس کے غلبے اور گرفت سے بادشاہوں کی گردنیں چھوٹ سکیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ واجب الوجود ایسا ہے کہ اس کے لئے عدم (یعنی نہ ہونے)کا تصوُّر بھی نہیں۔قیُّوم ایسا کہ بذاتِ خود قائم ہے اور ہر موجود کا قیام اس کی وجہ سے ہے۔ آسمان و زمین پر تسلُّط رکھنے والا ہے۔ جمادات،حیوانات اورنباتات کا خالِق ہے۔غلبہ و تسلط میں یکتا ہے۔مُلْک اور مَلَکُوْت میں اکیلا ہے۔فضل، جلال،جمال،قدرت اور کمال والا ہے ۔وہ کہ جس کے جلال کی معرفت میں عقلیں حیران اور وصف بیان کرنے سے زبانیں گنگ ہیں اوروہ ذات کہ جس کی معرفت سے عجز کا اعتراف کرنا عارفین کے لئےکمالِ معرفت ہے۔جیساکہ حدیث شریف میں ہے۔چنانچہ،
ثنائے باری تعالٰی کا احاطہ نہیں ہوسکتا:
	سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’لَااُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ یعنی میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کرسکتا تو ایساہی ہے جیسی تونے اپنی ثنا بیان فرمائی ہے۔“(1)
	صِدِّیْقِیْن کے سردار امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ارشاد ہے:’’ ادراک کو پانے سے عاجز رہنا ہی ادراک ہے،پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوق کے لئےاپنی معرفت کی طرف سوائے عِجز کے کوئی راستہ نہیں رکھا۔“ (2)
	کاش! مجھے(یعنی امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کو) علم ہوتا کہ جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حقیقی محبت کو ممکن نہیں مانتے اور اس کو مجاز پر محمول کرتے ہیں کیا وہ ان اوصاف کے اوصافِ جمال، مَحامدِکمال اورمَحاسن میں سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مسلم، کتاب الصلاة، باب ما یقال فی ا لرکوع وا لسجود،ص۲۵۲، حدیث:۴۸۶
2…انوار البروق فی انواء الفروق، الفرق ا لحادی والاربعون والمائتان،۴/ ۲۶۳ …… الرسالة  القشیرية، باب التوحید، ص۳۳۲