سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتا۔تھوڑی سی دنیا حاصل کرکے توکیوں خوش ہوتا ہے؟تیرا شہرمالدار یہودیوں اور مجوسیوں سے بھراپڑاہے اوران کے پاس تجھ سے زیادہ دنیاوی نعمتیں ہیں۔ایسی دنیا پر تُف ہےجس میں خسیس(کم تَر) لوگ بھی تجھ سے آگے ہیں۔
اے نفس!تو کتناجاہل ہے،تیری ہمت کس قدرخَسِیْس ہےاور تیری سوچ کتنی گھٹیا ہے کہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمقرب بندوں انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام اور صدیقینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی جماعت سے جو ہمیشہ رحمَتِ الٰہی کے سائے میں ہے منہ موڑ کرچنددنیاوی ایام کے لئے بےوقوف جاہل لوگوں کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ تجھ پر افسوس ! ایسی صورت میں تیری دنیا اور دین دونوں برباد ہوجائیں گے۔
اے نفس!جلدی کر تو ہلاکت کے نزدیک ہوچکا ہے،موت تیرے قریب آپہنچی ہے اورموت سے ڈرانے والا(یعنی بڑھاپا) بھی آ گیا ہے۔مرنے کے بعد تیری طرف سے کون نماز پڑھے گا؟ موت کے بعد تیری طرف سے کون روزہ رکھے گا؟ تیری طرف سے کون اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوجواب دے گا؟
اےنفس!تیری زندگی کے چندروزباقی ہیں اگر تو ان سے اُخروی تجارت کرے تو یہ تیرا قیمتی سرمایہ ہیں مگر تونے اکثر ایام کو ضائع کردیا ہے اب مرتے دم تک بھی ان کےضائع کرنےپرروتا رہے توان کی تلافی نہیں کرسکتا پھر بھلا ایسی صورت میں کیسے تلافی کرسکتا ہے جبکہ توبقیہ زندگی کو ضائع کرنے اور پرانی عادت پرقائم رہنے سے بازنہ آنےوالا ہو؟
اے نفس!کیا تو نہیں جانتاکہ تیرا انجام موت،ٹھکانا قبر،بچھونامٹی،کیڑے تیرے ساتھی اورحشر کا ہولناک معاملہ تیرے سامنے ہے۔
اے نفس!کیا تو یہ نہیں جانتا کہ مُردوں کا لشکر شہر کے دروازے پر تیرا انتظار کررہا ہے اور انہوں نے پختہ عزم کررکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سےنہیں ہٹیں گے جب تک تجھے ساتھ نہ لے جائیں۔
اے نفس!کیا تو نہیں جانتا کہ مردے اس دنیا میں آنے کے لئےبے چین ہیں تاکہ وہ گزشتہ کوتاہی کا تدارُک کرسکیں جبکہ تیرے پاس ابھی موقع ہے۔اگر مردوں سے خریدوفرخت کا معاملہ ہوتو یہ تیرے ایک دن کو پوری دنیا کے بدلے خریدنے پر تیار ہوجائیں اور تو ہے کہ اپنے اوقات غفلت و فضولیات میں ضائع کررہا ہے۔