(3)…
کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾ (پ۸،الاعراف:۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے۔
اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے طریقے میں تم کوئی تبدیلی یا اس کا پھر جانا نہیں پاؤ گے۔
آخر دنیا چھوڑ کر جانا ہے:
اے نفس!میں دیکھتا ہوں کہ تو دنیا سے محبت کرتا ہے اور اسی سے مانوس ہے،اس سے جدائی تجھ پر شاق گزرتی ہےاورتو اس کے قریب ہو کر اپنے اندر اس کی محبت مزيد بڑھا رہا ہے۔جان لے کہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب اور ثواب سے غافل ہےاور قیامت کی ہولناکیوں اور احوال سے بھی بے خبر ہے۔تو موت پر ایمان نہیں رکھتا جو تجھے تیری محبوب چیزوں سے جدا کردے گی۔ بتا!اگر کسی شخص کوفقط بادشاہ کے گھر میں داخل ہو کر دوسری طرف سے نکلنےکی اجازت ہولیکن وہ وہاں کسی خوبصورت چیزپرنظر ڈالےاور دل مکمل طورپر اس کی طرف متوجہ ہوجائے پھر اسے مجبوراً وہاں سے جدا ہونا پڑے تو کیا یہ شخص عقل مند لوگوں میں شمار ہوگا یا بے وقوفوں میں؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ دنیا بادشاہوں کے بادشاہ کا گھر ہے اور تجھےتو صرف اس سے گزرنے کی اجازت ہے اور اس میں جو کچھ ہےان سب سے جدا ہونا ہے جیساکہسیِّدُالْبَشَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ جس سے محبت کرنا چاہیں کریں آخر کار آپ نے اس سے جدا ہونا ہے اورجوبھی عمل چاہیں کریں اس کا بدلہ دیا جائے گا اور جب تک چاہیں دنیامیں رہیں بالآخر دنیا سے جانا ہے۔(1)
اے نفس!کیا تو نہیں جانتا ہے کہ جو دنیاوی لذّتوں کی طرف التفات کرتااور ان سے انسیت حاصل کرتا ہے تو اسے ان لذّتوں کی جدائی پر کس قدر زیادہ حسرت ہوگی کیونکہ موت اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ گویا وہ لاعلمی میں زہرِ قاتل کو توشہ بنارہا ہے۔کیاتوگزرے ہوئے لوگوں کو نہیں دیکھتاجنہوں نے بلند و بالا مکانات تعمیرکئے پھرخالی ہاتھ دنیا سے چلے گئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح ان کی زمین اور مکانات کا وارث ان کے دشمنوں کو بنادیا۔کیا تو ان لوگوں کی حالت سے عبرت حاصل نہیں کرتا؟دیکھ!انہوں نے کیسی کیسی اشیاء جمع کیں لیکن استعمال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الاوسط،۳/ ۱۸۷،حدیث:۴۲۷۸ …… المستدرک،کتاب الرقاق،باب شرف المؤمن قیام اللیل،۵/ ۴۶۳،حدیث:۷۹۹۱