کے مقابلے میں اس کا وقت بھی تھوڑا ہوگایا یہ خیال ہے کہ اُس کی شِدَّت اِس سے کم ہوگی؟ ہر گز نہیں! ایسی بات نہیں اور نہ ہی شدت اورسردی کےاعتبارسےدنیا کے موسِمِ سرما اور جہنم کے زمہریر کے درمیان کوئی مناسبت ہے۔کیا تیرایہ خیال ہےکہ بندہ کسی محنت کے بغیر اس سے نجات پالے گا؟ ہرگز نہیں! کیونکہ جس طرح سردیوں کے موسم کی شدت آگ اور دیگر اسباب کے بغیر دور نہیں ہوتی اسی طرح جہنم کی گرمی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے توحید کے قلعہ اور عبادات کی خندق کی ضرورت ہوتی ہے۔
لوگو!یہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کرم ہی ہے کہ اس نے تمہیں قلعہ بند ہونے کا طریقہ سکھادیا اور اس کے اسباب کو آسان کردیا۔ايسا نہیں کہ وہ قلعہ(یعنی توحید) کے بغیر تم سے عذاب کو دور کردےجیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کرم ہے کہ اس نے سردی کی ٹھنڈک کو دور کرنے کے لئے آگ کو پیدا کیا،تمہیں لوہے اور پتھر کے درمیان سے آگ نکالنے کا طریقہ بتایاتاکہ تم سردیوں کی ٹھنڈک دور کرسکو۔یہ تمام چیزیں اس نے تمہارے فائدےکےلئے پیدا فرمائی ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوجس طرح جبہ ،لکڑیاں وغیرہ خریدنےکی ضرورت نہیں اسی طرح عبادات اور مجاہدات کی بھی ضرورت نہیں۔عبادت تو تمہارے لئے نجات کاذریعہ ہےلہٰذا جو شخص نیکی کرے گا تو اپنے لئے کرے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا نقصان بھی خودہی برداشت کرےگا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ جہاں والوں کامحتاج نہیں ۔
اے نفس!جہالت سے باہر نکل اور آخرت کو دنیا پر قیاس کر۔
آخرت کو دنیا پر قیاس کرنے کے متعلق تین فرامین باری تعالٰی:
(1)…
مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ (پ۲۱،لقمٰن:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا۔
(2)…
کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗ ؕ (پ۱۷،الانبیآء:۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے جیسے پہلے اُسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے۔