وجہیں ہوسکتیں ہیں :(۱)…خفیہ کفر(۲)…واضح بےوقوفی۔خفیہ کفر کامطلب یہ ہے کہ آخرت پر تمہاراایمان کمزور ہے اور تم سزاو جزاکی عظمت واہمیت سے واقف نہیں۔واضح بےوقوفی کامطلب یہ ہے کہ تم خالِقِ اسباب کےفضل اوراس کےعفو ودرگزر پراعتمادتو کرتے ہو لیکن اس کی خفیہ تدبیراور اس کے ڈھیل دینے کی طرف نہیں دیکھتے نیز اس طرف بھی تمہاری توجہ نہیں کہ ہماری عبادت کی اسے ضرورت نہیں۔تم روٹی کے ایک لقمہ،خوراک کے ایک دانے اور مخلوق سے ایک کلمہ سننے کے معاملے میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اپنی غرض تک پہنچنے کے لئے تمام حیلے اور اسباب استعمال کرتے ہو۔اسی بے وقوفی کی وجہ سے رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسےلوگوں کواحمق فرمایا۔
عقل مند اور بےوقوف:
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں:عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہےجو خواہِشِ نفس کی پیروی کرے پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےامید رکھے۔(1)
اے نفس!تجھے دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا نہ کرے اور ہر گز تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ڈھیل پر وہ بڑا فریبی دھوکا نہ دے۔تو اپنی فکر کر دوسروں کا معاملہ تیرے لئے اہم نہیں۔اپنے اوقات کو ضائع نہ کریہ گنتی کے سانس ہیں جو آہستہ آہستہ ختم ہورہے ہیں۔بیماری سے پہلے صحت کو، مصروفیت سے پہلے فراغت کو، محتاجی سے پہلے مال داری کو، بڑھاپے سے پہلے جوانی کواورموت سے پہلے زندگی کو غنیمت جان۔جس قدر تو آخرت میں رہے گا اس کے مطابق اس کی تیاری بھی کر۔ اے نفس!کیا تو سردیوں کی مدت کے مطابق رزق، لباس، لکڑیاں اورضروری سامان کابندوبست نہیں کرتا ؟ایسے وقت میں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا نہیں کرتاکہ وہ کسی جبے، اون اور لکڑی کے بغیر تجھ سے سردی کی تکلیف دور کردے حالانکہ وہ اس پر قادر ہے۔
جہنمی طبقہ زَمْہریر:
اے نفس!کیا تیرا خیال یہ ہےکہ جہنم کےزَمْہریر(یعنی ٹھنڈے طبقے)میں سردی کم ہوگی اورموسم سرما
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة، باب۲۵، ۴/ ۲۰۷، حدیث:۲۴۶۷