کو جوانی میں اکھاڑنےکی کوشش کرتا ہےمگرطاقت کی کمی کےباعث نہیں اکھاڑسکتاپھر درخت اکھاڑنے کا ارادہ مؤخر کردیتاہےتو وقت کےساتھ ساتھ درخت مزید مضبوط ہوتاجاتاہے پھر جب دوبارہ اکھاڑنےکی کوشش کرتا ہےتوبڑھاپے کی وجہ سے اپنے اندرمزیدکمزوری پاتاہے۔ خواہشات کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جو شخص جوانی میں ان پر کنٹرول نہیں کرتا وہ بڑھاپےمیں کیسے کرسکتاہے؟حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپے کی ریاضت مشقت ہے۔ضربُ المثل ہے:”بھیڑیے کوادب سکھانا عذاب مول لینا ہے۔“ تر لکڑی ٹیڑھی ہوسکتی ہے مگرجب وقت گزرجائےاور خشک ہوجائےتوپھر ٹیڑھی نہیں ہوسکتی۔
اے نفس!جب تو ان واضح باتوں کو نہیں سمجھتا اور عمل میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے تو پھرخود کو عقلمند کیوںسمجھتاہے؟ اس سے بڑھ کراور حماقت کیاہوسکتی ہے؟یہ عذرپیش نہ کرکہ خواہش مجھے نیک عمل نہیں کرنے دیتی،مشقت اور تکلیف مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔یہ تیری کتنی بڑی کم عقلی ہے اور تیرا یہ عذر کس قدر غیرمعقول ہے اگر تجھےلذت وخواہشات کی واقعی طلب ہوتی توخرابیوں سے پاک وصاف دائمی خواہشات کی تمناکرتااوریہ تمناجنت ہی میں پوری ہوسکتی ہے۔اگر توجنتی نعمتوں کوحاصل کرناچاہتاہے تو دنیاوی خواہشات ترک کردےکیونکہ بعض اوقات ایک لقمہ کےسبب بہت سےلقموں سےمحروم ہوناپڑتا ہے۔ مثلاً طبیب نے مریض کو تین دن ٹھنڈا پانی پینے سے منع کیا تاکہ وہ ٹھیک ہوجائے اور عمر بھر ٹھنڈاپانی پی سکے۔طبیب نے مریض کوتنبیہ کردی کہ اگر میری ہدایت کی خلاف ورزی کی تو لمبے عرصے تک ٹھنڈا پانی پینے سے محروم ہوجاؤگےکیونکہ فی الوقت ٹھنڈےپانی کااستعمال تمہیں کسی سنگین مرض میں مبتلاکردے گا۔ ایسی صورت میں بتاؤ!عقل مندشخص کیا کرےگا تین دن صبر کرےگاتاکہ لمبے عرصے کی محرومی سے بچ جا ئے یا تین دن سے پہلے پانی پی کر لمبے عرصے کی تکلیف برداشت کرےگا؟دنیامیں انسان کی عمرخواہ کتنی ہی ہوجائے آخرت کی زندگی کےمقابلےمیں وہ تین دن سے بھی کم ہے۔بتاؤ!کیا خواہشات سےبچنےکی تکلیف جہنم کی تکلیف سے زیادہ ہے؟غورکروجو مجاہدے کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتاوہ عذابِ الٰہی کی تکلیف کیسے برداشت کرسکے گا؟
نفس کے معاملے میں کوتاہی کی وجوہات:
کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نفس پر نظر رکھنے کے معاملےمیں کوتاہی کرتے دیکھتا ہوں۔اس کی دو ہی