Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
393 - 784
بہت بڑا جاہل:
	اے نفس!اگرتوسب کچھ جانتاہے،سب پرایمان رکھتا ہےتو پھر عمل میں کوتاہی کیوں کرتا ہے؟جبکہ موت تیری تاک  میں ہے۔ ممکن ہے کہ وہ بغیر مہلت کے تجھے اپنا شکار بنا لے پھر کیوں تو موت کے اچانک آجانے سے بے خوف ہے؟بالفرض اگرتجھے100سال کی مہلت مل بھی جائے تو کیا کرلےگا ؟کیا گھاٹی کے دامن میں جانوروں کو چارہ دینے والاگھاٹی سے گزرےبغیراسے طےکرسکتاہے؟ اگر تواسے ممکن جانتاہے  تو بہت بڑا جاہل ہے۔
	اے نفس!ایسے شخص کے بارے میں تیری کیارائے ہے جوگھرسےتوعِلْمِ فقہ سیکھنےنکلالیکن کئی سال تک دوسرے ملک میں بیکارگھومتا رہااور خودكوتسلی دیتا رہاکہ گھرجانےسےایک سال قبل علم فقہ سیکھ لے گا تو بتاؤ کیا تمہیں اس شخص کی کم عقلی پرہنسی نہیں آئے گی کہ  تھوڑی سی مدت میں علم فقہ حاصل کرناچاہتاہے یا فقہ سیکھے بغیر محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم سے فقہائے کرام کا منصب چاہتا ہے۔
	اےنفس!اگرتویہ سوچتاہے کہ آخری عمرکی عبادت مفیدہوتی ہےاور اعلیٰ درجات تک پہنچنےکاسبب ہوتی ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ آج کادن ہی تیری زندگی کاآخری دن ہوپھرکیوں توعمل کی جانب گامزن نہیں ہوتا؟ مان لیتے ہیں اگر تجھےمہلت کا پروانہ بھی مل جائےتوکیاہوا عمل کی طرف سبقت کرنے میں کوئی حرج تو نہیں۔ ہمیں تویہی بات سمجھ آتی ہےکہ تو خواہشات کونہیں چھوڑسکتا کیونکہ اس میں تجھے مَشَقَّت مَحْسُوس ہوتی ہے۔
نیک اعمال کو کل پر ٹالنا:
	اے نفس!اگرتویہ آس لگائے بیٹھاہے کہ  اُس دن عمل کروں گاجب خواہشات کی مخالفت آسان ہو جائے گی تویاد رکھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ایسا دن پیدا نہیں فرمایا اور نہ ہی پید اکرے گاکیونکہ جنت مشکل اعمال اپنانے کی  صورت میں حاصل ہوتی ہے اورنفس مشکل اعمال  سےہمیشہ بھاگتاہےپس تو ناممکن چیز کی آس لگائے بیٹھا ہے۔
	اے نفس!تیرایہ ارادہ کوئی نیانہیں،عرصہ درازسےتونیک اعمال کوکل پرٹال رہاہے،نہ جانے کتنے کل آکرآج میں تبدیل  ہوگئے،ہمیں لگتا ہے کہ توکسی بھی” کل“میں عمل نہیں کرسکتا۔آج توعمل میں سستی کررہا ہے کل مزید سستی کرےگاکیونکہ خواہشات ایک مضبوط درخت کی مانند ہیں۔مثلاًایک شخص درخت