اے نفس!تجھ پر افسوس ہےگویا تو آخرت کے دن پریقین نہیں رکھتا۔کیا تیرایہ خیال ہے کہ تو مرنے کے بعد بچ جائے گا اور تیری جان چھوٹ جائے گی؟ہرگز نہیں ،ایسا بالکل نہیں ہوگا۔
انسان کی حقیقت:
اے نفس!کیاتواس گھمنڈ میں ہے کہ تو آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟کیا تو گرائی جانے والی منی کی ایک بوند نہ تھا؟ پھر جما ہوا خون بنا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تجھے کامل بنایا۔ جس نے یہ کچھ کیا وہ کیا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ اگر تیرا یہی اعتقاد ہےکہ وہ ایسا نہیں کرسکتاتو تجھ سے بڑھ کر کافر اور جاہل کون ہے؟ کیا تو اپنی حقیقت پرغور نہیں کرتاتومنی کی ایک بوند تھاپھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےتجھےزندگی دی پھر تجھےاچھی صورت دی، تیرے لئے راہ آسان کی پھر تجھے موت دے کر قبر میں اتارے گا۔کیا تو رب تعالیٰ کے اس قول کو جھٹلاتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے گا؟(1)اگر تو اس فرمانِ الٰہی کو نہیں جھٹلاتا تو پھرخداسے ڈرتا کیوں نہیں؟ اگر کوئی یہودی تجھےپسندیدہ کھانے سے یہ کہہ کرمنع کردے کہ یہ کھاناتیرے لئےمرض میں نقصان دہ ہے تو اسے تو چھوڑ کر اپنے نفس سے مجاہدہ کرتا ہے۔کیا تیرے نزدیک معجزات سے تائید شدہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے قول اور آسمانی کتابوں میں موجود رب تعالیٰ کے فرمان کی وُقْعَت یہودی کی بات سے بھی کم ترہے؟ حالانکہ یہودی اندازے اور گمان سے بات کررہا جبکہ وہ علم وعقل میں بھی ناقص ہے ۔تعجب کی بات ہےکہ اگر کوئی بچہ تجھے کہہ دے کپڑے میں بچھو ہےتودلیل کامطالبہ کیے بغیر تو فوراً کپڑااتار پھینکتاہےلیکن انبیا، اولیا، علما اورحکما کے ارشادات پرعمل نہیں کرتا،کیاتیرے نزدیک ان ہستیوں کےارشادات ناسمجھ بچےکی بات سے بھی کم تَر ہیں؟ کیا جہنم کی گرمی،اس کے طوق وزنجیر،اس کے عبرت ناک عذاب،گُرْز، تھوہڑ، پیپ، گرم ہَوا، سانپ اور بچھو کی تکلیف تیرے نزدیک دنیا وی بچھو کی تکلیف سے بھی کم ہے؟حالانکہ دنیاوی بچھو کی تکلیف تو ایک یا ایک دن سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ سب جوتوکررہاہے عقل مند وں والےکام نہیں بلکہ اگر جانور تیری حالت جان لیں تو تجھ پر ہنسیں اور تیری عقل کا مذا ق اڑائیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب چاہا اسے باہر نکالا۔(پ۳۰،عبس:۲۲)