تو تھوڑی دیر دھوپ یاگرم حمام میں بیٹھ یا انگلی کو آگ کے قریب کر؟ تجھے اپنی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا۔
اےنفس!کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم کے حوالے سے دھوکے کا شکار ہے اور کیا تجھے اس کی اِطاعت و عبادت کے حوالے سے بے نیازی کا فریب ہے؟کیوں تودنیاوی کاموں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم پر اعتماد نہیں کرتا، دشمن سے بچنے کے لئے تو خود ہی حیلہ تلاش کرتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا نہیں کرتا۔ روپے پیسوں سے پوری ہونےوالی دنیاوی خواہش پیش آئے تو اس وقت تیرا دم کیوں نکلتا ہے؟کیوں تو مختلف طریقوں سے اس کی طلب وحصول کی کوشش کرتاہے؟کیو ں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم پر بھروسا نہیں کرتا؟حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہےتوتجھے کوئی خزانہ بتادے یا تیری محنت و طلب کے بغیرتیری ضرورت پوری فرمادے۔کیا تو اس گمان میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافضل وکرم صرف آخرت میں ہے دنیا میں نہیں؟ حالانکہ تو جانتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا طریقہ بدلتا نہیں اور دنیا و آخرت کا رب ایک ہی ہے۔انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
اے نفس!تیری منافقت اور جھوٹے دعوے بڑے عجیب ہیں تو زبان سے ایمان کا دعوٰی کرتا ہے جبکہ منافقت کا اثر تیرے ظاہر پر نمایاں ہوتا ہے۔کیاتیرے مالک ومولاعَزَّ وَجَلَّنے تجھے یہ نہیں فرمایا:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (پ۱۲،ھود:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمَۂ کرم پر نہ ہو۔
اور آخرت کے حوالے سے یہ ارشاد نہیں فرمایا:
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (پ۲۷،النجم:۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تیرے دنیوی معاملات کو خاص طور پر اپنے ذمہ لےلیااور تجھے اس کی فکر سےآزاد کردیا لیکن تیرےافعال اسے جھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ تو دنیا کے پیچھے دیوانوں کی طرح بھاگتا ہے۔آخرت کا معاملہ تیری محنت وکوشش کے سپرد ہے مگر تو اس سے مغرور وں کی طرح منہ پھیرتا ہے۔یہ بات تو ایمان کی علامات میں سے نہیں ہے۔اگر ایمان فقط زبانی دعوٰی کانام ہوتا تومنافقین کے لئے جہنم کا سب سے نچلا گڑھا نہ ہوتا۔