تکبر بھڑک اٹھے تواس سے کہو:
اے نفس!تو کتنا بڑا جاہل ہے،دعوٰی توذہانت وفطانت کا کرتاہے لیکن ہے توسب سےبڑابےوقوف، توجانتاہے کہ عنقریب تجھے جنت و دوزخ میں سے کسی ایک میں جانا ہےتوپھر کیوں ہنسی مذاق اورکھیل کود میں پڑاہے؟نیز تجھے ایک بہت بڑے معاملے کا سامنا کرنا ہےاور آج یا کل موت تجھے جکڑ لے گی۔ شاید تو سمجھتا ہےموت دور ہےمگریادرکھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہےتوابھی تجھے موت دے دے۔توجانتا ہےکہ یقینی چیز قریب ہوتی ہے جبکہ دورتوغیریقینی چیز ہوتی ہےاور تو یہ بھی جانتاہے کہ موت اچانک آئے گی، اس سے پہلے کوئی قاصد نہیں آئے گااوراس کے آنے کاکوئی وقت بھی مقرر نہیں، سردی گرمی،رات دن، بچپن یا جوانی کسی بھی وقت موت آسکتی ہےاور کوئی بھی اچانک موت کا شکار ہوسکتا ہےاور اگر موت اچانک نہ بھی آئے تو بیماری اچانک آجاتی ہے پھر وہ موت تک پہنچادیتی ہے۔
اےنفس! آخرکیاوجہ ہےکہ تو موت کی تیاری نہیں کرتا؟حالانکہ موت تجھ سےانتہائی قریب ہے،کیا تواس فرمانِ الٰہی میں غور نہیں کرتا: اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکْرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوۡہُ وَہُمْ یَلْعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمْ ؕ(پ۱۷،الانبیآء:۱ تا۳)
ترجمۂ کنز الایمان: لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں جب اُن کے رب کے پاس سے انھیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اُسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے اُن کے دل کھیل میں پڑے ہیں۔
اے نفس!اگر تویہ اعتقاد رکھ کر گناہ کی جرأت کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے نہیں دیکھ رہا تو اس سے بڑھ کر تیرا کفر کیا ہے؟اور اگریہ اعتقاد رکھ کر گناہ کی جرأت کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھےدیکھ رہاہے تواس سے بڑھ کر تیری بے حیائی وبے شرمی کیا ہے؟
اے نفس!اگرتیرا نوکر بلکہ اگر تیرا بھائی تیری پسندکے خلاف گفتگو کردے تو کس قدر غَضَب ناک ہوجاتا ہے؟ پھرتوکس منہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب اور سخت پکڑ کو دعوت دیتا ہے؟کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ تو عذابِ الٰہی کو برداشت کرلے گا؟ ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اگر تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سخت عذاب سے نہیں ڈرتا