عدم سے وجود میں لانے کی وجہ سے نہ تو تھکے اور نہ ہی اسے سستی لاحق ہو۔
گفتگوکا حاصل یہ ہے کہ قدرت اورقادراسی کے آثارِ قدرت میں سے ایک اثر ہے۔ لہٰذاحقیقی جمال، خوبصورتی، عظمت، بڑائی اورقہرو غلبہ اسی ذات کے لئے ہیں تو اگر کمالِ قدرت کی وجہ سے کسی سے محبت کرنا ممکن ہو تو اس لحاظ سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی محبت کا مستحق نہیں ہے ۔
نقائص وخبائث سے پاک ہونے کے لحاظ سے:
جہاں تک عیوب اور نقائص سے منزَّہ ہونے اور رذائل و خبائث سے پاک ہونے کاتعلق ہے تو یہ محبت کے اسباب میں سے ایک سبب اور باطنی صورت کے حسن و جمال کے تقاضوں میں سے ہے۔انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور صدیقینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناگرچہ عُیُوب اورنَقائص سے مُنَزہ ہیں لیکن اس کے باوجودپاک ہونے کا کمال صرف عظمت وبزرگی والی ایک ذاتِ حق وحدہ لاشریک کے لئےہےاور رہی مخلوق تو وہ نقص بلکہ نقائص سے خالی نہیں بلکہ ان کا عاجز،مخلوق ،مُسَخَّراور مجبور ہونا بذاتِ خود عیب اور نقص ہے اور کمال تو فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَہٗ لاشَریْک کے لئےہے اور غیر کو اتنا ہی کمال حاصل ہے جتنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے عطا فرمایا اور ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے غیر کو کمال کا انتہائی درجہ عطا کر دے کیونکہ کمال کے انتہائی درجات میں سے اقل درجہ یہ ہے کہ بندہ غیر کا مسخّر اور اس کی وجہ سے قائم نہ ہو اور یہ بات غیرُاللہ کے حق میں محال ہے، پس وہی کمال میں یکتا اور نقص و عیوب سے منزہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےعیوب سے پاک اور منزہ ہونے کی صورتوں کی تشریح طویل ہے اور یہ عُلُومِ مُکاشَفہ کے اسرار میں سے ہے اس لئےہم اس کو بیان کر کے گفتگو کو طویل نہیں کریں گے۔
حقیقی جمال والاصرف اللہ عَزَّ وَجَلَّہے:
حاصِلِ کلام یہ ہے کہ جب نقائص سے پاک ہونا کمال اور پسندیدہ جمال ہے تو اس کی حقیقت بھی ذاتِ باری تعالٰی کے لئے ہی ہے اور جہاں تک غیر کے کمال اور نقائص سے پاکی کاتعلق ہے تو وہ مطلق نہیں بلکہ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہے جو اس سے زیادہ نقائص والا ہےجیسے گھوڑے کوبَنِسْبَت گدھے کے اور انسان کو بَنِسْبَت گھوڑے کے کمال حاصل ہے اور اصْلِ نقصان سب میں موجود ہے اور فرق صرف نقصان کے مراتب میں ہے۔اَلْغَرَض جمیل(جمال والا) محبوب ہوتا ہے اور جمیْلِ مطلق وہ اکیلی ذات ہے جس کا کوئی