باب نمبر6 : نفس کوڈرانے اور دھمکانے کابیان
جان لو!تمہارا سب سے بڑا دشمن نفس ہےجو تمہارے پہلو میں ہے۔برائی کا حکم دینا،شر کی طرف بلانا اور نیکی سے بھاگنااس کی فطرت میں شامل ہے۔اسےپاک وصاف اور سیدھا رکھنا،مجاہدے کے ذریعے اسے خالق عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی طرف راغب کرنا،خواہشات و لذّات سےروکناتمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر اسے کھلی چھٹی دوگے تویہ سرکشی اور نافرمانی پر تُلا رہے گااور آخرِ کار ہاتھ سے نکل جائےگا۔بسااوقات یہی نفس ”نفس ِلَوَّامَہ یعنی ملامت کرنےوالانفس“ بن جاتاہے جس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قسم یاد فرمائی(1)۔ اس کے ”نفس مُطْمَئِنَّہ‘‘ بن جانے کی بھی امیدہوتی ہےکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایسے نیک بندوں میں شامل ہوجائے جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ راضی ہے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی(2) لہٰذا تم لمحہ بھر بھی نفس کو نصیحت وملامت کرنے سے غافل مت ہونا اور پہلےاپنےنفس کوسمجھاؤ پھردوسروں کوسمجھانا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ اے ابنِ مریم!پہلےاپنے آپ کو نصیحت کرو جب خود نصیحت قبول کرلو تو پھر دوسروں کو نصیحت کرو ورنہ مجھ سے حیا کرو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾ (پ۲۷،الذٰریٰت:۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اورسمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
نفس کوسمجھانے کا طریقہ:
نفس کو سمجھانے کا طریقہ یہ ہے کہ تم نفس کی طرف متوجہ ہوکر اسے جہالت اوربے وقوفی سے روشناس کرواؤ کیونکہ اسے ہمیشہ سے اپنی ذہانت وفطانت پرنازہے پھر جب بےوقوف کہنے پراس کی اَنااور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿۲﴾ترجمۂ کنز الایمان:اور اس جان کی قسم جو اپنے اُوپر بہت ملامت کرے۔(پ ۲۹،القیامة:۲)
2…جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ فَادْخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادْخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔(پ ۳۰،الفجر:۲۷تا۳۰)