Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
388 - 784
 تواِسی زمانے میں ہے کیونکہ اس میں مددگار زیادہ ہیں، زمانے والوں کی مخالفت کروگے تو لوگ تمہیں پاگل سمجھ کر مذاق اڑائیں گے لہٰذا ہر حالت میں ان کی موافقت کرو۔جس مصیبت میں زمانے والے مبتلا ہوں گے اسی میں تم بھی مبتلا ہوگے تنہا تم پر مصیبت نہیں آئے گی اور جو مصیبت عام ہو اسے برداشت کرنا آسان ہوتا ہے۔
	علاج:خبردار تم نفس کے وسوسے میں آنانہ ا س کی دلیل سے متاثرہونا بلکہ اُلٹااس سے سوال کرنا کہ بتاؤ زبردست سیلاب آگیاہو،سارا شہرڈوب رہا ہو، لوگ بچاؤ کی کوئی تدبیر نہ کررہے ہوں بلکہ حقیقَتِ حال سے بے خبر شہر میں رہ رہے ہوں اور تم انہیں چھوڑ کر کشتی میں سوار ہو کر ڈوبنے سے خلاصی پاسکتے ہوتو کیا ایسے وقت میں تم یہ کہوگے کہ مصیبت تو سب پر آئی ہے لہٰذا میں اسے آسانی سے برداشت کرسکتا ہوں یا تم انہیں چھوڑ کر اور ان کی بےاحتیاطی کو بےوقوفی سمجھ کر خود کو ہلاکت سے بچاؤگے؟غورکرو! ڈوبنے کے خوف سے ان کی موافقت چھوڑرہے ہوحالانکہ ڈوبنےکاعذاب گھڑی بھرکا ہوتاہےجبکہ آخرت کا عذاب دائمی ہے تو تم آخرت کے عذاب سے بچنے کی تدبیر کیوں نہیں کررہے؟ کیوں  تم لمحہ بہ لمحہ عذاب کے حق دار بنتے جارہے ہو؟کہاں سے تم نے مصیبت کوعام ہونے کے باعث آسان سمجھ لیا؟حالانکہ جہنمی تو عذاب میں اس طرح گرفتار ہوں گے کہ ایک عام جہنمی کو کسی خاص جہنمی کی طرف دیکھنے کی فرصت نہ ہوگی(کہ اسے دیکھ کراپنے عذاب کو ہلکا سمجھے)۔ کفار بھی اپنے  زمانے کے لوگوں کی موافقت کی وجہ سے ہلاک ہوئے جیساکہ قرآن مجید میں ہے:
اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۵،الزخرف:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں۔
	جب تم نفس کوملامت کررہے ہو،اسے مجاہدہ کی تلقین کررہے ہو اور نفس نافرمانی پر ہی تُلا رہے تو تم پر لازم ہے کہ اسے ملامت کرتے،سمجھاتے بجھاتے،ڈراتےاور دھمکاتے رہوکہ یہ نافرمانی تمہارے حق میں بری ہے۔ایسا کرنے سے ممکن ہے جلد ہی نفس  سرکشی سے باز آجائے۔
(…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)
(…تُوْبُوْا اِلَی اللہ		اَسْتَغْفِرُاللہ…)
(…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)