عَلَیْہَاکے پاس گئے۔ کثرت سےروزے رکھنے کے سبب (کمزوری سے)ان کارنگ سیاہ ہوچکاتھااور زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی بینائی چلی گئی تھی،نماز کی کثرت کے سبب معذورہوگئی تھیں توبیٹھ کرنماز پڑھتیں۔ سلام کے بعد ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عفو و درگزر کاتذکر ہ کیا تاکہ وہ مطمئن ہوجائیں مگر یہ سن کر وہ سسکیاں لےکر رونے لگیں پھرکہنے لگیں:”میں نفس سے واقف ہوں، میرا دل زخمی اور کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ بخدا! میں یہ چاہتی ہوں کہ کاش!اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے پیدا نہ فرماتا اور میرا نام تک نہ ہوتا۔“یہ کہہ کر وہ نماز میں مشغول ہوگئیں۔
’’حلیۃ الاولیاء‘‘کے مطالعہ کی ترغیب:
اگرتم نفس کی نگرانی چاہتے ہو تو مجاہدہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کے حالات کا مطالعہ کروتاکہ طبیعت بھی راغب ہو اورعمل کاجذبہ بھی پیدا ہو۔یادرکھو!اپنے زمانے کے گمراہ لوگوں سے بچتے رہوکیونکہ زمین میں اکثرایسے لوگ ہیں جن کی پیروی تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔مجاہدہ کرنے والوں کے واقعات بے شمار ہیں اور ہم نے جس قدر بیان کئے ہیں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے یہ مقدار کافی ہے۔ اگرتم مزید حالات جاننا چاہتے ہوتو کتاب’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء(1)‘‘ کا مطالعہ کرو۔یہ کتاب صحابَۂ کرام، تابعین عِظام اورتبع تابعین کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارے زمانے کے لوگوں اوربزرگانِ دین کے مابین کس قدر دوری ہے۔
ایک وسوسہ اور اس کا علاج:
وسوسہ:اگرنفس تمہیں یہ وسوسہ ڈال کراپنے زمانےوالے لوگوں کی طرف راغب کرے کہ بھلائی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اَلْحَمْدُلِلّٰہ!دعوتِ اسلامی کی علمی وتحقیقی مجلس المدینۃ العلمیہ کے شعبہ تراجِمِ کتب کے مدنی علما اس کتاب کی پہلی جلد کا ترجمہ بنام”اللہوالوں کی باتیں“کرچکےہیں اورمکتبۃ المدینہ سےشائع بھی ہوچکی ہےبقیہ جلدوں پر کام جاری ہے۔ اس کتاب کاپورا نام’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاءوَطَبْقَاتُ الْاَصْفِیَاء‘‘ہے۔ یہ کتاب حضرات خُلفائے راشدین، ان کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں شامل صحابَۂ کرام، مہاجر صحابَۂ کرام، اہْلِ صُفَّہ، ساکنِیْن مسجدِنبوی، صحابیات، تابعین، تبع تابعین، مشرقی اَولیائے کرام، سردارانِ صوفیا،عراقی عارِفین،بغدادی اَولیائےکرام اورمصنف کےہم عَصراَولیائےعظَّامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکےخوفِ خدا و عشْقِ مصطفٰے،فضائل وکمالات،سیرت وکردار،صفات وعادات،عبادات واخلاقیات،اعمال واقوال،افعال واحوال،زہد وتقوٰی اورحالات وواقعات پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں حضرت مصنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں اولیائے کرام کی شان، مقام ومرتبہ اور تَصوُّف کو بیان فرمایا ہے جس سے اسلام میں تَصوُّف کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔