نہیں کیا کیونکہ میں آپ کی غلامی میں رہتی تو مجھے دُگنا اجر ملتا لیکن اب میں ایک اجر سے محروم ہوگئی۔
حکایت:کثرتِ گریہ کے سبب بینائی چلی گئی
(9)…حضرت سیِّدُنا اِبْنِ عَلاء سَعدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میری چچا زاد بہن بَریرہ بہت عبادت گزار تھی اور کثرت سے قرآنِ پاک کی تلاوت کرتی تھی۔جب بھی جہنم کے ذکروالی آیت پڑھتی تو رو پڑتی۔ مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی بینائی چلی گئی۔ہم چند چچا زاد بھائیوں نے مشورہ کیاکہ اسے زیادہ رونے پر نصیحت کریں گے۔حضرت ابنِ عَلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہم سب اس کے پاس پہنچے اور پوچھا: بریرہ! کیسی ہو؟اس نے کہا:”اجنبی زمین میں مہمان کی طرح پڑی منتظر ہوں کہ بلاوا آئے اور اسے قبول کروں۔“ہم نےپوچھا:کب تک روتی رہوگی؟اب توبینائی بھی زائل ہوچکی ہے۔اس نے کہا:اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں میری بینائی زائل ہونے میں بھلائی ہے تو اس کے چلے جانےکی کوئی پروا نہیں اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں میری بینائی زائل ہونے میں بھلائی نہیں ہےتو پھراور زیادہ رونے کی ضرورت ہے۔ پھر اس نے ہم سے منہ پھیرلیا۔حضرت سیِّدُنا اِبْنِ عَلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہم چچازاد بھائیوں نے کہا:”یہاں سے چلو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس کاحال دوسرا ہےہماری طرح نہیں ہے۔“
سیِّدَتُنامُعاذہ عَدَویہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَاکا مجاہَدہ:
(10)…حضرت سیِّدَتُنا مُعاذہ عَدَویہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا دن کے وقت فرماتیں:”یہ میری موت کا دن ہے حتّٰی کہ شام تک کھانا نہ کھاتیں۔“ رات ہوتی تو فرماتیں:”یہ میری موت کی رات ہے پھر صبح تک نماز میں مشغول رہتیں۔“
سیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَاکا مجاہَدہ:
(11)…حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکے ہاں ٹھہرا۔وہ بالا خانہ میں عبادت کرنے لگیں اور میں مکان کے کونے میں عبادت کرنے چلاگیا۔ وہ سَحَرتک عبادت میں مشغول رہیں۔ سحرکے وقت میں نے پوچھا:”خدانے ہمیں