ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”میں اُس کی بات سن کر رو نے لگا۔“ اس نے پوچھا:”کیوں رو رہے ہو؟“میں نے کہا:”زخم ہے لیکن اب جلدٹھیک ہوجاؤں گاکیونکہ بیماری کی دوا مل گئی ہے۔“اس نے کہا:”اگر سچے ہو تو بتادوکیوں رورہے ہو؟“ میں نے کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رَحم فرمائے!کیا سچا آدمی نہیں روتا؟“ اس نے کہا:”ہاں سچاآدمی نہیں روتا۔“ میں نے پوچھا:”کیوں؟“ اس نے کہا:”کیونکہ رونا دل کاچین ہے۔“ میں یہ سن کر حیران ہو کر خاموش ہوگیا۔
حکایت:کاش!غُفَیْرہ سر اٹھائے تونافرمانی نہ کرے
(7)…حضرت سیِّدُنا احمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:ہم چند افراد نے حضرت سیِّدَتُنا غُفَیرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے ملنے کی اجازت چاہی مگرانہوں نے ملنے سےانکارکردیا۔ ہم دروازے پرکھڑے رہے۔انہیں معلوم ہوا کہ ہم دروازے ہی پرہیں تو وہ یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولنے آئیں:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!جوتیرے ذکر سے روکے اس سے تیری پناہ چاہتی ہوں ۔“انہوں نے دروازہ کھولا توہم اندر داخل ہوگئےاور کہا:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندی! ہمارے لئے دعا فر مادیجئے۔انہوں نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے گھر میں تمہاری مہمان نوازی مغفرت سے کرے۔ پھر فرمانے لگیں:”حضرت سیِّدُنا عطاء سُلَمِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 40سال تک آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی۔ ایک دفعہ نگاہ آسمان کی جانب اُٹھ گئی تو بے ہوش ہو کر گر پڑے اور اس کے سبب ان کا پیٹ پھٹ گیا۔اے کاش! غفیرہ بھی سر اٹھائے تونافرمانی نہ کرے اور اے کاش !غفیرہ سے نافرمانی سرزد ہو تو دوبارہ نہ کرے۔
حکایت:کہیں عذاب نازل نہ ہوجائے
(8)…ایک نیک شخص کا بیان ہےکہ میں ایک دن اپنی حبشی باندی کے ساتھ بازار کی طرف نکلا۔ باندی کو میں نے بازار کے ایک کنارے پرٹھہرنے کاکہااور اپنی ضروری چیزیں لینے چلا گیا۔باندی سے کہاتھاکہ میری واپسی تک یہاں سےکہیں نہ جانا لیکن میں واپس آیا تو وہ وہاں نہ تھی۔میں غصے کی حالت میں گھر آگیا۔باندی نے میرے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہنے لگی: میرے آقا! پہلےمیری بات سن لیجئے!آپ مجھےجس جگہ ٹھہرا کرگئے تھے وہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکرکرنے والاکوئی نظرنہ آیا تو مجھےخوف لاحق ہوا کہ کہیں یہاں عذاب نازل نہ ہوجائے۔ اس نیک شخص کا بیان ہے کہ مجھے اس کی بات بہت اچھی لگی تومیں نے کہا:تو آزاد ہے۔اس نے کہا:آپ نے اچھا