Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
383 - 784
لئے اٹھا تو دیکھا کہ وہ حالَتِ سجدہ میں کہہ رہی ہے:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تیری  محبت کاواسطہ میرے گناہ معاف فرمادے۔“میں نے کہا:تیری محبت  نہیں بلکہ یوں کہو کہ میری محبت کاواسطہ میرےگناہ معاف فرمادے۔کنیز نے کہا:”اے میرے آقا! نہیں بلکہ وہی مجھ سے محبت  کرتا ہے، اسی نے مجھے شرک سے نکال کر اسلام کی دولت سے مالا مال کیا، اسی کی  محبت کااثرہے کہ میں بیدارہوں جبکہ بےشمار لوگ سو رہے ہیں۔“
یمنی خاتون کی آہ وزاری:
(5)…حضرت سیِّدُنا ابوہاشِم(1) قُرَشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں’’سَریَّہ ‘‘نامی یمنی خاتون آئیں۔میں رات کے وقت ان کی آہ وزاری سنتا۔ایک دن میں نے خادم سے کہا:”جھانک کر دیکھو یہ خاتون کیوں روتی ہیں؟“ خادم نے جھانکاتو  انہیں کچھ کرتاہوا نہیں  پایا البتہ وہ  اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر قبلہ رُخ بیٹھے کہہ رہیں تھیں:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تو نے سریہ کو پیدا کیا،اسے ہرقسم کےحالات میں اپنے رزق کی نعمت سے نوازتا رہا، ہرحالت میں تونے اسے اچھا رکھا، تیری طرف سے پہنچنے والی  ہرآزمائش سے یہ محفوظ رہی اس کے باوجود یہ بے خوف ہوکرتیری  نافرمانی کرکےتجھے ناراض کرتی ہے۔کیا سریہ یہ گمان کربیٹھی ہے کہ تو اس کی  نافرمانی کو نہیں دیکھ رہا حالانکہ تو جاننے والا خبردار ہے اور توسب کچھ کرسکتا ہے۔“
(6)…حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: میں ایک رات وادیِ کنعان کی طرف نکلا۔ وادی کی طرف چڑھنے لگا تو دیکھا  ایک سیاہ چیز میری طرف آرہی ہےاوروہ یہ آیتِ مُبارَکہ پڑھ کر رورہی ہے:
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۴،الزمر:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اُنھیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔
	جب وہ سیاہ چیز میرے قریب آئی تومیں نے دیکھا کہ وہ اونی جبہ میں ملبوس ایک عورت  تھی جس کے ہاتھ میں چھوٹاساڈول تھا۔عورت نے مجھ سے بے خوف ہوکرپوچھا:”تم کون ہو؟“ میں نے کہا:”میں اجنبی ہوں۔“ عورت نے پوچھا:”اے شخص! کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ ہوکر بھی اجنبیت ہے؟“حضرت سیِّدُنا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…شارح اِحْیَآءُ الْعُلُوم علّامہ سیِّد محمد مرتضٰی زَبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اِحْیَآءُ الْعُلُومکے نسخوں میں اسی طرح  ہے جبکہ درست ابوہشام ہے۔(اتحاف السادہ المتقین، ۱۳/ ۲۶۴)