مجلس میں حاضر ہوتاتو انہیں اکثرگریہ وزاری کرتے دیکھتا۔ ایک دفعہ میں نے اپنےدوست سے پوچھا:”اگر ہم ایسے وقت میں آئیں جب یہ تنہاہوں تو ہم انہیں نفس سے نرمی برتنے کاکہیں گے۔“دوست نے کہا جیساتم بہتر سمجھو۔چنانچہ ایک مرتبہ وہ تنہاتھیں تو ہم ان کے پاس گئے اور ان سے کہا:”اگر آپ نفس سے نرمی برتیں اور روناکم کردیں توشاید یہ آپ کے مقصود میں مدد گارہو؟“حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن بسطام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ وہ روکر کہنے لگیں:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں اتنارونا چاہتی ہوں کہ تمام آنسو ختم ہوجائیں پھر میں خون کے آنسو روؤں حتّٰی کہ میرے خون کا ایک ایک قطرہ آنسوبن کرنکلےلیکن میں کہاں روتی ہوں؟ میں کہاں روتی ہوں؟“ بار باریہی الفاظ دہراتی رہیں حتّٰی کہ ان پر غشی طاری ہوگئی۔
حکایت:جنت سجائی گئی
حضرت سیِّدُنا محمد بن معاذ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھے ایک عبادت گزار خاتون نےاپناخواب بیان کرتے ہوئےبتا یاکہ میں نے خود کو جنت میں پایا،وہاں میں نے جنتیوں کواپنے اپنےدروازوں پر کھڑا دیکھا تو پوچھا:”اہْلِ جنت کیوں کھڑے ہیں؟“ایک جنتی نے مجھے بتایا:”یہ سب کسی خاتون کی زیارت کرنے کے لئے کھڑےہیں جس کے لئے جنت سجائی گئی ہے۔“میں نےپوچھا:”وہ خاتون کون ہیں؟“ اس نے کہا:”وہ مقام اُبلہ(بصرہ کےقریبی وادی) کی رہنے والی ایک سیاہ فام کنیز ہےجس کانام شعوانہ ہے۔“ میں نے کہا:”بخدا! وہ تو میری بہن ہیں۔“میرے یہ جملہ کہتےہی وہ ایک اونٹنی پر سوار ہوا میں اڑتی چلی آئیں۔انہیں دیکھ کر میں نےآواز دی:”اے میری بہن!کیا آپ جانتی ہیں ہماراآپس میں کیارشتہ ہے؟ آپ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں میری سفارش کریں کہ مجھے بھی آپ کے ساتھ رکھے۔“وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائیں اور کہا:”ابھی تمہاراوقت نہیں آیا لیکن میری دو باتیں یاد رکھو:(۱)…اپنے دل کو غمگین رکھنا (۲)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت واطاعت کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیناتو موت کے وقت تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔“
نیک رومی کنیز:
(4)…حضرت سیِّدُنا عبداﷲبن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میرے پاس ایک رومی کنیز تھی جو مجھے بہت پسند تھی۔ایک رات وہ میرے برابرمیں سوئی ، میں بیدار ہوا تواسے نہ پایا۔میں اسے تلاش کرنے کے