خواتین کے مجاہدات کی 13حکاتات وواقعات
سیِّدَتُناحبیبہ عَدَویہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہاکا مجاہَدہ:
(1)…منقول ہے کہ حضرت سیِّدَتُناحبیبہ عَدَویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہا عشا کی نماز پڑھ کراپنے گھرمیں ایک چبوترے پر چادر بچھاکر کھڑی ہوجاتیں اور بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتیں:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تا ریکی چھاگئی،لوگ سو گئے، بادشاہوں کی مجلس بر خاست ہوگئی،محب اورمحبوب خلوت اختیارکرچکےجبکہ میں تیری بارگاہ میں کھڑی ہوں ۔“یہ کہہ کر فجر تک نماز پڑھتی رہتیں اور طلوعِ فجر کے وقت عرض کرتیں:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!رات گزر گئی اور دن روشن ہوگیا۔اےکاش! مجھے معلوم ہوتا کہ میری رات کی عبادت مقبول ہوگئی ہے تاکہ میں خود کو مبارک باد دیتی یامقبول نہ ہونےکا علم ہوجاتا تاکہ میں اظہارِافسوس کرتی۔ الٰہی! تیرے عزت وجلال کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں اسی طرح تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی رہوں گی۔ الٰہی! تیرے عزت وجلال کی قسم! اگر تومجھے اپنی بارگاہ سے جھڑک دےتب بھی میں ہمت نہیں ہاروں گی کیونکہ میں تیرے جود وکرم سے بخوبی واقف ہوں۔“
بوڑھی خاتون کی گریہ وزاری:
(2)…منقول ہے کہ ایک نابینا بوڑھی خاتون رات بھر عبادت کرتیں اور سحری کے وقت بارگاہِ الٰہی میں درد بھری آواز میں نداکرتیں:”الٰہی!عبادت گزار رات کی تاریکی میں تیری عبادت کرکے تیری رَحمت اور تیری مغفرت کے فضل کی طرف سبقت کرتے ہیں۔اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ مجھے سبقت کرنے والوں کی پہلی جماعت میں شامل فرما، مجھےمقامِ عِلِّیِّیْن میں مُقرَّبین کادرجہ عطافرما اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا۔توہی سب سے زیادہ رَحم فر مانے والا اور سب سے بڑھ کرعظیم وکریم ہے۔“ دعاکرتے کرتے وہ نابینابوڑھی خاتون سجدے میں گرجاتیں حتّٰی کہ گرنے کی آوازسنی جاتی اور فجر تک رورو کر دعا مانگتی رہتیں۔
شَعْوانَہ نامی عبادت گزار خاتون:
(3)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن بِسطام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں شَعْوانَہ نامی عبادت گزار خاتون کی