Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
380 - 784
عَلَیْہ نےاس سے پو چھا:”دنیا کی عمر کتنی ہے؟“اس نے کہا:”سات ہزار سال۔“ فرمایا:”قیامت کا دن کتنا بڑا ہوگا؟“ اس نے کہا:”50ہزار سال کا۔“ فرمایا:” پھر تم سات دن عمل کیوں نہیں کرتے تاکہ بروزِقیامت عذاب سے بچ سکو۔“
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مقصد یہ  بتا نا تھاکہ اگرتم دنیاکی عمر کے برابر زندہ رہےاور سات ہزار سال تک عبادت کرتے رہے تو قیامت کے 50ہزار سالہ دن سے بچ جاؤ گے،یہی عمل تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہوگااور  اسی میں تمہیں  رغبت  ہونی چاہئے کیونکہ زندگی تونہایت مختصر ہے جبکہ  آخرت  کادن بہت بڑا ہے۔
	 نفس کی نگرانی اور مراقبہ کے سلسلےمیں ہمارے سَلف صالحین  کایہی طریقہ تھا۔
سلف صالحین کی سیرت کامطالعہ:
	اب چونکہ ایسے بزرگانِ دین کا ملنا نادر ہے لہٰذا جب نفس سرکشی دکھائے،عبادت کی پابندی سے جی چرائے تو ان بزرگانِ دین  کی سیرت کامطالعہ کیجئے البتہ  اگر کسی کو ان کی سیرت کی پیروی کرنے والے کی صحبت اور مشاہَدہ  میسر آجائے تو یہ دل کے لئےبہت فائدہ مند اور سلف صالحین کی اقتدا پر ابھا رنے کابہترین ذریعہ ہے کیونکہ مشاہَدہ سننےاور پڑھنے سےزیادہ فائدے مند ہوتاہےاور اگر کسی مردِکامل کی تمہیں صحبت  میسر نہ ہو سکے تو اَسلاف کی سیرت کے مطالعہ سے ہرگزغفلت نہ برتناکہ اونٹ نہ ملے تو بکری ہی سہی۔لہٰذا اب تمہارےسامنے دوراستے ہیں:(۱)… تم سَلف صالحین  کی اقتدا کر کےان عقلمند،سمجھدار اور دینی  بصیرت والوں میں شامل ہوجاؤیا (۲)…زمانے کے جاہل اور غافل لوگوں کے پیچھے چلو۔لیکن یہ نصیحت یا د رکھو!ان احمق اوربے وقوف لوگوں کی پیروی  کرکے عقل مندوں کی مخالفت  پر ہرگز کمر بستہ  نہ ہونا۔
	اگرنفس  تمہیں یہ کہہ کرسستی دلائے کہ سلف صالحین تومضبوط لوگ تھے اورتجھ میں ان کی طرح طاقت نہیں کہ تواُن جیسامجاہدہ  کرسکےتو تم عبادت میں مجاہدہ کرنے والی  عورتوں کی سیرت کامطالعہ کرنااور نفس کوجواب دینا کہ میں اتنا ذلیل وحقیر نہیں ہوں کہ عورتوں سے کمزور بن جاؤں۔ مرد ہوکر دینی اور دنیوی معاملات میں عورتوں سے پیچھے رہنانہایت ذلت والی بات ہے۔اب ہم عورتوں کے مجاہدات کے واقعات ذکر کرتے ہیں۔