Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
38 - 784
 اپنی ذات کے لئےموت،حیات،مرنے کے بعد اٹھنے اورنفع و نقصان کا مالک نہیں ہے بلکہ اپنی آنکھ کے اندھے ہونے ،زبان کےگونگے ہونے،کان کےبہرے ہونےاوربدن کےمرض لاحق ہونے سے حفاظت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا اور ان تمام چیزوں کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں ہے جو اس کی قدرت سے متعلق ہیں۔بہرحال وہ ان سے عاجز ہے خواہ ان کا تعلق اس کی ذات سے ہو یا کسی دوسرے سے۔تواُن چیزوں کا کیاپوچھناجن کے ساتھ اس کی قدرت کا کوئی تعلق نہیں جیسے حکومتِ سماوی، افلاک، ستارے، زمین، پہاڑ، سمندر، ہوائیں،بجلیاں، معدنیات، نباتات،حیوانات اور ان کے تمام اجزاء۔اَلْغَرَض انسان ان کے ایک ذرے پر بھی قادر نہیں اور جو قدرت اس کو اپنے نفس اور غیر پرحاصل  ہے وہ بھی اس کی ذاتی نہیں بلکہ اس کا،اس کی قدرت کا اور اسبابِ قدرت کا خالِق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور وہی اس کو قدرت د ینے والا ہے۔ وہ اگر کسی ایک مچھر کو بہت بڑے بادشاہ اور طاقت ورشخص پر مُسَلَّط فرمادے تو وہ ضرور اسے ہلاک کر دے۔
	معلوم ہوا کہ بندے کو جو قدرت حاصل ہے وہ اس کے ربّعَزَّ  وَجَلَّہی کی طرف سے ہے جیسا کہ روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ حضرت  ذُو الْقَرْنَیْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں ارشادِباری تعالٰی ہے:
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ (پ۱۶،الکھف:۸۴)	ترجمۂ کنز الایمان:بےشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا۔
	پتا چلا کہ ان کی تمام بادشاہت اور سلطنت اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سےان کےقابو میں دی گئی تھی کہ زمین کا ایک حصہ ان کے زیرِ قدرت کردیا اور عالَمِ اَجسام کی طرف نسبت کرتے ہوئے تمام زمین ایک ڈھیلے کی طرح ہے اور تمام بادشاہتیں جن سے انسان زمین میں فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس ڈھیلے کا غبار ہیں، پھر وہ غبار بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل اور قدرت سے ہے۔ لہٰذا اب یہ محال ہے کہ کوئی شخص کسی بندے سے اس کی قدرت، تدبیروسیاست، غلبہ اور کمالِ قوت کی وجہ سے محبت کرے اور اسی وجہ سے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت نہ کرے’’لاَحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔‘‘پس وہ جبّاراورغالب ہے،وہ علیم اورقادرہےاورسارے آسمان اس کے دستِ قدرت میں ہیں اور زمین اور اس کی حکومتیں اور جو کچھ زمین پر ہے سب اس کے قبضے میں ہے۔ تمام مخلوق کی پیشانی اسی کے قبضَۂ قدرت میں ہے۔ وہ اگر سب کو ہلاک فرمادے تو اس کی بادشاہت اور حکومت میں ذرہ برابر کمی نہ ہو اور اگر اس جیسی مخلوق کو ہزار مرتبہ پیدا فرما ئے تو پیدا کرنے اور