Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
379 - 784
	(۲)…وہ گناہوں پر آنسو بہاتااور بے قراری  میں رات گزارتا ہوا نظر آئے گا۔
	(۳)…اگر خوف  میں اضافہ ہوجائے  توبارگا ِ الٰہی میں  یوں فر یاد کررہاہوگا: اے میرے پرور دگا ر !میری مدد فرما۔
	(۴)…تو میری فر یادکوخوب جانتاہے اور بندوں کی لغزشوں کو بہت معاف کرنے والاہے۔
	اور اسی سے متعلق یہ اشعار بھی کہے گئے ہیں:
اَلَـذُّ مِنَ التَّلَذُّذِ بِالْغَوَانِیْ		اِذَا اَقْبَلْنَ فِی حُلَلٍ حِسَانِ
مُنِیْبٌ فَرَّ مِنْ اَھْلٍ وَّ مَالٍ		یَسِیْحُ اِلٰی مَکَانٍ مِّنْ مَکَانِ
لِیَخْمُلَ ذِکْرُہٗ وَیَعِیْشُ فَرْدًا		وَیَظْفَرُ فِی الْعِبَادَةِ بِالْاَمَانِیْ
تَلَذَّذَہٗ التِّلَاوَةُ اَیْنَ وَلّٰی		وَذِکْرٌ بِالْفُؤَادِ وَ بِاللِّسَانِ
وَعِنْدَ الْمَوْتِ یَاْتِیْہِ بَشِیْرٌ		  یُبَشِّرُ بِالنَّجَاةِ مِنَ الْھَوَانِ
فَیُدْرِکُ مَا اَرَادَ  وَمَا تَمَنّٰی		مِنَ الرَّاحَاتِ فِی غُرَفِ الْجِنَانِ
	ترجمہ:(۱)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےولی  کی نظر میں  ذکر ِ الٰہی کی لذت خوبصورت لباس میں آنے والے پیکر حسن وجمال کے د یدار سے بڑھ کر ہے۔
	(۲)…وہ  مال ودولت ،اہل و عیال کوچھوڑ کرپرور دگار کی طلب میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پسند کرتا ہے۔
	(۳)…تاکہ لوگوں سے چھپ کر تنہائی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت  واطاعت کرکےفلاح وکامرانی حاصل کرے۔
	(۴)…ہر جگہ اس کے  دل و زبان پر تلاوت کا ذوق اور ذکرِ الٰہی کی لذت رہتی ہے۔
	(۵)…موت کے وقت اس کے پاس ایک خوشخبری دینے والا آتا ہے جو اسے(دنیاکی)ذلت وحقارت سے نجات کی خوشخبری دیتا ہے۔
	(۶)…پھر وہ جنتی  بالاخانوں  میں را حت  و سکون کی صورت میں اپنے مقصد اور اپنی تمنا کو پالیتا ہے۔
دنیا اورآخرت کی عُمْر:
(38)…حضرت سیِّدُنا کُرْزبن وَبَرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دن میں تین بار قرآنِ پاک کاختم اور عبادات میں خوب مجاہَدہ کیا کرتے۔ایک شخص نے  کہا:”آپ نے تو نفس کو مشقت میں ڈال رکھا ہے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی