وہ بزرگ بیان کرتے ہیں: میرے دل میں خیال آیاکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہےلہٰذا میں ڈرا کہ اگر اسے ذِکرِالٰہی سے روکاتو کہیں اسی مقام پر مجھ پر عذاب نہ آجائے۔چنانچہ میں وہاں سے واپس آگیا۔
حکایت:ابھی موت کو ختم نہیں کیا گیا
ایک نیک آدمی کابیان ہے کہ میں سفر کے دوران آرام کی غرض سےایک درخت کےنیچے بیٹھ گیا اچانک اپنی طرف ایک بزرگ کوآتادیکھا۔انہوں نے میرے پاس آکر کہا:”اے لڑکے!کھڑے ہوجاؤ کہ ابھی موت کو ختم نہیں کیا گیا۔“ پھر وہ چلنے لگے تومیں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا۔میں نے انہیں یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت کرتے ہوئے سنا:” کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ (1)“اس کےبعد وہ دعامانگنے لگے:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری موت میں برکت عطا فرما۔“میں نے کہا:”اور موت کے بعد؟“ فرمایا:”جسے موت کے بعد کےحالات وواقعات کا یقین ہو وہ اپنے مقصدِحیات کونہیں بھولتااور اس کے لئے دنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں ہوتا۔“ پھر وہ بزرگ بارگا ہِ الٰہی میں مناجات کر تے ہوئے عرض گزار ہوئے:”اے وہ ذات جس کی رضا کی خاطر سجدے کئے جاتے ہیں! اپنے دیدار سے مشرف فر ماکر میرے چہرے کو روشن کردے۔اپنی محبت سے میرے دل کومعمور کردے اور بروز ِقیامت اپنےحضور رسوائی سے بچانا۔میں اپنے کئے پر نہایت شرمندہ ہوں اورتیری نافرمانی سےتوبہ کرتاہوں۔اگرتیراحِلْم نہ ہوتاتوموت بھی مجھےمہلت نہ دیتی اور اگرتیرا عَفْووکَرَم نہ ہوتا تو میری امیدیں دَم توڑ چکی ہوتیں۔“اس کے بعد وہ بزرگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔
اسی مفہوم کو اشعار کی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
نَحِیْلُ الْجِسْمِ مُکْتَئِبُ الْفُؤَادِ تَرَاہُ بِقُنَّةٍ اَوْ بَطْنِ وَادِی
یَنُوْحُ عَلٰی مَعَاصٍ فَاضِحَاتٍ یُکَدِّرُ ثِقْلُھَا صَفْوَ الرُّقَادِ
فَاِنْ ھَاجَتْ مَخَاوِفُہٗ وَزَادَتْ فَدَعْوَتُہٗ اَغِثْنِی یَا عِمَادِی
فَاَنْتَ بِمَا اُلَاقِیْہٖ عَلِیْمٌ کَثِیْرُ الصَّفْحِ عَنْ زَلَلِ الْعِبَادِ
ترجمہ:(۱)…تم کمزور جسم اور غموں سے چور شخص کوپہاڑوں کی چوٹی یا کسی وادی میں دیکھوگے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترجمۂ کنزالایمان:ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔(پ۱۷،الانبیآء:۳۵)