Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
377 - 784
 نے اپنے ہاتھ کو جھٹکتےہوئے کہا:”نہ دنیاسے  مجھے کچھ  سروکار ہے اور نہ ہی دنیا کا مجھ سے کو ئی تعلق۔سُن اے دنیا! اپنےچاہنے والوں کے پاس جااور  ان ہی کودھوکےکی زندگی دکھا۔“ پھر کہنے لگا:”گزشتہ زمانے کے لوگ کدھر گئے؟مٹی میں بوسیدہ ہوگئے اورزمانے میں فناہوگئے۔“میں نے اسے آواز دی کہ اے بندۂ خدا! میں کب سے پیچھے کھڑا تمہارے فارغ ہونے کامنتظر ہوں؟ تو اس نے کہا:”زمانے سے آگے جانے والا شخص کیسے فارغ ہوسکتا ہے جبکہ زمانہ آگے بڑھےجارہا ہونیزاس بات کابھی خوف ہو کہ کہیں موت نہ آجائے؟اور وہ شخص کیسے فارغ ہوگاجس کی زندگی کا وقت گزر گیااور گناہ باقی رہ گئے۔“پھروہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگا:”تُوہی  ان گناہوں  کو بخشنے والا ہےاور ہرمصیبت  میں تیری ہی مددکی امیدہے۔“ اس کے بعد اس نے قرآنِ پاک کی یہ آیتِ مُبارَکہ  تلاوت کی:
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۴،الزمر:۴۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: اور اُنھیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔
	پھرپہلے سے بھی زیادہ سخت چیخ ماری اور بےہوش ہو کرگر پڑا۔میں سمجھا اس کی روح پرواز کرگئی لیکن جب قریب ہواتواسےبڑی بے چینی کے عالَم میں پایاپھر جب اسے کچھ افاقہ ہوا تو اس کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ میں کون ہوں ؟ میرا دل کیا ہے؟ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اپنے فضل سے میری برائیوں کو مٹا دے ،اپنی رَحمت میں مجھے چھپالے اور جب تیرے حضور حاضر ی ہواپنے کرم سے میرے گناہ معاف فرمادینا۔
	وہ بزرگ بیان کرتے ہیں:”میں نے اس سے کہا کہ  اس ذات کی قسم! جس سے تمہیں امید ہے اور جس پر تمہیں  اعتماد ہے مجھ سے  بات کرلو۔“ اس نے کہا:”جس کی بات سے  تمہیں کوئی نفع  پہنچے اس سے بات کرو اور جسے گناہوں نے گھیراہواہے اس سے گفتگوکاارادہ ترک کردو۔میں تویہاں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مرضی کے مطابق شیطان سے  جنگ کئے جارہاہوں اور وہ مجھ سے لڑے جا رہاہے۔ جس حالت پر میں ہوں اس سے نکالنے میں مدد دینے تمہارے سوا آج تک کوئی  نہیں آیا۔تم  يہاں سے جاؤ،تمہیں دھوکا ہوا ہے۔تم نے میری زبان  کو ذکرِالٰہی سے روک دیااور میرے دل کاایک  حصہ تم سے  گفتگو کی طرف مائل ہوا۔میں تمہارے شر سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ناراضی سے مجھے بچائے گا اور اپنی رحمت سے مجھ پر فضل فرمائے گا۔“