باری تعالیٰ کی معرفت حا صل ہوگئی، ان کا سینہ کشادہ کر دیا گیااوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں مشغول ہوگئے۔ اسی ذات پاک پر توکل کی برکت سے مخلوق اور ان کےمعاملات ان کے سپرد کردیئے گئے۔ان کے دل ایما ن و یقین کا مرکز،حکمت کاسر چشمہ اور عظمت و قدرتِ الٰہی کاخزینہ ہیں۔یہ لو گ مخلوق میں اٹھتے بیٹھتے ہیں لیکن ان کے دل ملکوت میں گم اور غیب کے پردوں میں چھپے ہوتے ہیں۔عالَمِ مَلَکُوت سے واپسی پر ان کے سا تھ ایسے گو ہرِ نایاب ہوتے ہیں جنہیں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ان کا باطن ریشم کی طرح خوبصورت اور ظاہر رومال کی طرح (نرم وملائم)ہےاورہر ایک سے عاجزی وانکساری سے پیش آتےہیں۔یہ تمام اوصا ف محض تکلّف اور کوشش سے حاصل نہیں ہو تےبلکہ یہ تو فضْلِ خُداوندی ہےوہ جسے چاہتا ہے عطافرماتا ہے۔
حکایت:خوف خداسے لرزاں وترساں عبادت گزار
(37)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں بیْتُ الْمُقَدَّس کے پہاڑی علاقے میں چلتے چلتے ایک وادی میں پہنچاجہاں میں نے ایک آوازسنی۔میں اس آوازوالے کو تلاش کرنے کے لئے نکلاتو ایک باغ نظر آیاجس میں بکثرت درخت تھے۔وہاں میں نے ایک شخص کو دیکھاجو بارباریہ آیتِ طیبہ تلاوت کررہا تھا:
یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنۡ سُوۡٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بـَعِیۡدًا ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی اور جو بُرا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔
میں اس شخص کے پیچھے بیٹھ کر تلاوت سننے لگا۔وہ بارباراسی آیتِ مُبارَکہ کوپڑھتا رہا۔ اچانک اس نے ایک چیخ ماری اوربے ہوش ہو کر گر پڑا۔میں نے کہا: ہائے افسوس !یہ میری بدبختی کی وجہ سے ہوا۔پھر میں اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔جب اسےکچھ افاقہ ہوا تو وہ کہنے لگا:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں جھوٹوں کے ٹھکانے سے تیری پناہ چاہتاہوں،بےکار لوگوں کے اعمال سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، غافل لوگوں سے تیری پناہ چاہتاہوں۔“ پھر کہنے لگا:”خوف رکھنے والوں کے دل تجھ سے ڈرتے ہیں، کوتاہی کرنے والوں کی امیدتجھ سے ہی بندھی ہوتی ہے،عارفین کے دل تیری ہی عظمت کے سامنے جھکتے ہیں۔“ پھراس