بتائے موت دے گا۔تونے میرے ساتھ میرے دشمن شیطان کوبھی پیدافرمایا۔اسےبدن میں خون کی طرح گر دش کرنے کی طاقت دی تو وہ مجھے دیکھتا ہے لیکن میں اسے نہیں دیکھ سکتاپھر یہ کہ تونے اپنی اطاعت کا حکم دیا۔اب اگر تیری رَحمت شامل حال نہ رہی تو میں کیسے اطا عت بجا لاؤں گا؟اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!دنیامیں غم وآزمائش اور آخرت میں عذاب و سزا ہےتو پھر راحت و خوشی کہاں ہے؟
رات میں تین بار چیخ بلند کرتے:
(35)…حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رات یوں گزارتے کہ تین بار چیخ بلندکرتے۔عشا کی نمازکے بعد گھٹنوں پر سر رکھ کربیٹھ جاتے اورغور وفکر کرتے رہتے جب رات کا پہلا پہرگزرجاتاتو ایک زوردار چیخ بلند کرتےپھر گھٹنوں پر سر رکھ کربیٹھ جاتے اور غور وفکر کرتے رہتےحتّٰی کہ رات کا دوسرا پہربھی گزرجاتاپھر ایک زوردار چیخ بلند کرتےاورپھر گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ جاتے اور غور وفکر کرتے رہتے جب سحری کاوقت ہوتاتوپھر ایک زوردار چیخ بلند کرتے۔ حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب میں نے بصرہ کےرہنے والے ایک شخص کویہ بات بتائی تو اس نے کہا: آپ ان کے چیخنےکو نہ دیکھئے بلکہ اس پر غورکیجئے کہ وہ کیوں چیختے ہیں۔
نیک گھرانہ:
(36)…حضرت سیِّدُنا قاسم بن راشد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا زَمْعَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے اہل و عیال سمیت ہمارے پاس مقا مِ مُحَصَّب میں تشریف لائے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رات دیر تک نماز پڑھتے،سحری کے وقت بلند آواز سے پکارتے:”اے سونے والو!کیا رات بھر سوئے رہو گے؟ اٹھوگے نہیں؟“ یہ سن کر گھروالے جلدی جلدی اٹھ جاتے اور کہیں سے رونے کی آواز آتی تو کوئی دعا مانگ رہا ہوتا اور کوئی قرآن پاک پڑھ رہاہوتاتو کوئی وضو کررہاہوتا۔جب صبح ہوتی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بلند آواز سے فرماتے:”لوگ صبح کو رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں۔“
انعام یافتہ بندے:
ایک دانش مندبزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: بعض بندوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاایساانعام ہو اکہ انہیں