اسی حالت میں رہیں۔ پھر میں بازار چلاگیا تاکہ ضرورت کی چیزیں لے کر آجاؤں۔ واپس آکر دیکھاتو آپ مسلسل وہی آیتِ مُبارَکہ پڑھ رہی ہیں اورروئے جارہی ہیں۔
ایک پاؤں پر ساری رات قیام:
(33)…حضرت سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْرَزَّاق فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناعبد الرحمٰن بن اسود نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سَفَرِ حج کےدوران ہمارے ہاں تشریف لائے۔اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک پاؤں میں کچھ تکلیف تھی اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دوسرے پاؤں کے زور پر پوری رات نماز میں مشغول رہے حتّٰی کہ عشا کے وضو سے فجرکی نماز پڑھی۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :میں موت سے صرف اس لئے ڈرتاہوں کہ وہ میری رات کی عبادت کے درمیان حائل ہوجائے گی۔
نیک لوگوں کی نشانی:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:نیک لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ شب بیداری کی وجہ سےان کے رنگ پیلےپڑجاتے ہیں،خوفِ خدا میں رونے کی وجہ سے آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں،روزہ رکھنے کی وجہ سے ہونٹ خشک ہوجاتےہیں اور ان پر خشوع و خضوع کا غبارچھایا رہتا ہے۔
تہجد گزاروں کے چہرے حسین ہونے کاسبب:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے دریافت کیا گیا کہ تہجد گزارروں کے چہرے حسین کیوں ہوتے ہیں؟ فرمایا: اس لئے کہ وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے تنہائی اختیار کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں نور کا لباس پہنا دیتاہے۔
راحت و خوشی کہاں ہے؟
(34)…حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوتے:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو نے مجھے(میری)چاہت وخواہش کے بغیر اپنی قدرتِ کامِلہ سے پیدا فرمایااوراپنی مرضی سے مجھے بغیر