کے ذریعے آپ نفس کوخوف دلاتے اور کہتے:”تیار ہوجا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں تجھ سے اس قدرمجاہدہ کرواؤں گاکہ تواُ کتا جا ئے گامگر میں ہمت نہیں ہاروں گا۔“جب نفس سستی کرتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چابک سے اپنی پنڈلیوں پر مارتے اور کہتے:”تجھے جانوروں سے زیادہ مارکھانے کی ضرورت ہے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے:” کیا دورِ رسالت والوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ و ہی دین پر سب سے زیادہ عمل کریں گے؟خدا کی قسم !ہم اس طرح دین پر عمل پیرا ہوں گے کہ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے بعد بھی کچھ لوگ ہیں۔“
حکایت:مولا!مجھے تیری ملاقات پسند ہے
(31)…حضرت سیِّدُنا صَفوان بن سُلَیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پنڈلیاں کثرتِ قیام کی وجہ سےجواب دے گئیں تھیں۔آپ عبادت میں اس قدر مجاہدہ کیا کرتے کہ اگر آپ سے کہہ دیا جائے کہ کل قیامت ہے تو عبادت میں مزید اضافہ نہ کرپائیں۔ نیندسے بچنے کی خاطر سردی کے موسم میں چھت پرچلے جاتے تاکہ سردی لگےاور گرمی کے موسم میں کمرے میں رہتے تاکہ گرمی محسوس ہو۔سجدے کی حالت میں آپ کا وصال ہوا۔آپ دعا میں یہ فرمایا کرتے:”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُحِبُّ لِقَآءَکَ فَاَحِبْ لِقَآئِییعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے تیری ملاقات پسند ہےپس تو بھی مجھ سے ملاقات کو محبوب رکھ۔“
سیِّدہ عائشہرَضِیَ اللہُ عَنْہَاکاخوفِ خدا:
(32)…حضرت سیِّدُنا قاسم(1) بن محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میری عادت تھی کہ میں صبح اُٹھ کر سب سے پہلے حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو سلام کرتا۔ایک دن صبح اٹھا تو دیکھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا چاشت کی نماز میں مشغول ہیں اور اس آیت مبارکہ:” فَمَنَّ اللہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ (2)“ کی بار بار تلاوت کر کے روئے جارہی ہیں۔ میں فراغت کے انتظار میں کھڑے کھڑے تھک گیالیکن آپ بدستور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پوتے ہیں۔ والد ماجد محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفا ت کے بعد آپ کی پر ورش آپ کی پھوپھی اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فر مائی۔ آپ حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہم شکل تھے۔ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بیان کردہ احادیث سب سے زیادہ آپ ہی کو یاد تھیں۔106 ہجری میں وفات پا ئی۔(اتحاف السادة المتقین، ۱۳/ ۲۴۸، ۲۴۹،ملخصًا)
2…ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچالیا۔(پ۲۷، الطور:۲۷)